شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی جہاں انسان کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے، وہاں بعض اوقات یہی خوبصورت راستے زندگی کا سب سے ہیبت ناک اور سنسنی خیز تجربہ بھی بن جاتے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کے ایک گروپ نے جب نیو بالاکوٹ سے اپنے سفر کا آغاز کیا، تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ناران، کاغان اور بابوسر ٹاپ کی دلکش وادیوں سے گزرتے ہوئے چلاس کے مقام پر ان کا سامنا زندگی اور موت کے ایک ایسے منظر سے ہوگا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ یہ کہانی جہاں ایڈونچر سے بھرپور ہے، وہاں نئے سیاحوں کے لیے ایک اہم سبق بھی ہے۔
بالاکوٹ سے بابوسر ٹاپ: اوور ایٹنگ اور پہاڑی گائیڈ کی تلاش
سفر کا آغاز صبح بالاکوٹ کے مشہور ماما ہوٹل سے روایتی ناشتے کے بعد ہوا۔ پہاڑی علاقوں میں اکثر نئے سیاحوں کو بلندی اور موسم کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگتا ہے، اور اگر اس دوران "اوور ایٹنگ" (زیادہ کھانا) ہو جائے تو طبیعت بگڑنے کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔ کیوائی، پارس، مہاندری اور ناران کے خوبصورت مناظر کو عبور کرتے ہوئے یہ قافلہ بڑاوئی پہنچا۔ بڑاوئی صرف ایک اسٹاپ نہیں بلکہ کوہ پیماؤں کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں ان کی ملاقات اشرف نامی مقامی گائیڈ سے ہوئی، جو مکڑا پہاڑ، ٹائیگر پیک اور موسیٰ کا مصلہ جیسی درمیانی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے ایک ماہر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ بھی ان چوٹیوں کو سر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو مقامی گائیڈ کی خدمات حاصل کرنا ہمیشہ محفوظ ترین فیصلہ ہوتا ہے۔
لوشی نالہ پر ٹوٹا پل اور چلاس کا میدانِ جنگ: جب گولیاں چلیں
اصل سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب جل کھڈ، بیسر اور گٹی داس کی بلندیوں کو پار کر کے، سمندر کی سطح سے 13,691 فٹ بلندی پر واقع بابوسر ٹاپ کا دلفریب نظارہ دیکھنے کے بعد ٹیم چلاس کی طرف اتری۔ لوشی نالے کا پل ٹوٹا ہوا تھا اور پتھروں کے عارضی راستے سے باری باری گاڑیاں گزاری جا رہی تھیں۔ اسی دوران پاس کے ایک گاؤں میں انتخابی پولنگ کے دوران دو سیاسی گروہوں کے درمیان شدید جھگڑا شروع ہو گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے لاٹھیوں اور پتھراؤ کی جگہ کلاشنکوفوں کی تڑتڑاہٹ نے لے لی۔ پہاڑوں کے درمیان گولیوں کی گونج نے پورے علاقے میں بھگدڑ مچا دی۔ سیاحوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے گاڑیوں کے پیچھے پناہ لی۔ وہ لمحات انتہائی ہیبت ناک تھے جہاں ایک طرف ٹوٹی سڑک کا خوف تھا اور دوسری طرف اندھا دھند فائرنگ۔ تقریباً دو گھنٹے کی شدید ذہنی اذیت اور سنسنی کے بعد جب فائرنگ رکی، تو گاڑیوں کو وہاں سے نکالا گیا، اور جیسے کہتے ہیں "جان بچی سو لاکھوں پائے"۔
تبصرہ و تجزیہ: چلاس سے استور کا ہیبت ناک اور بنجر راستہ
اس سفر کا ایک اور اہم اور حقیقت پسندانہ پہلو چلاس سے لے کر استور موڑ (اور گلگت) تک کا راستہ ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ پورا شمال سرسبز ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ چلاس کا یہ پورا خطہ انتہائی خشک، بنجر، درختوں سے محروم اور ہیبت ناک پہاڑوں پر مشتمل ہے جو انسان پر ایک عجیب سی بوریت اور خوف طاری کر دیتا ہے۔ قراقرم ہائی وے پر زیرو پوائنٹ، گونر فارم اور رائے کوٹ برج سے گزر کر جب استور ویلی کی طرف مڑیں، تو رات کے اندھیرے میں دریائے استور کے کنارے چلنے کا تجربہ جتنا مسحور کن ہے، اتنا ہی خطرناک بھی۔
سیاحوں کے لیے ایور گرین حفاظتی گائیڈ (سابقہ ریکارڈ):
- رات کا سفر: جیسے ان سیاحوں نے اصول بنایا تھا، پہاڑوں پر رات 9 بجے کے بعد سفر سے سخت گریز کریں۔ لوشی نالے جیسے حادثات رات میں مزید جان لیوا ہو سکتے ہیں۔
- طبی احتیاط: پہاڑی سفر پر نکلنے سے پہلے ہلکا کھانا کھائیں اور متلی یا پیٹ خراب ہونے کی ادویات ہمیشہ ساتھ رکھیں۔
- مقامی حالات کی معلومات: گلگت بلتستان یا چلاس کی طرف سفر کرنے سے پہلے ہمیشہ مقامی سیاست، الیکشن یا امن و امان کی صورتحال لازمی چیک کر لیں۔
آخر کار، یہ ٹیم استور شہر پہنچ کر ایک ہوٹل میں پناہ لینے اور ڈنر کے بعد پرسکون نیند سونے میں کامیاب رہی۔ یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ ایڈونچر جتنا بھی خوبصورت ہو، پہاڑوں کی اپنی ایک سخت اور بے رحم حقیقت ہوتی ہے۔




Comments
Post a Comment