عوام پر نیا بوجھ! حکومت کا ملک بھر میں فیول سبسڈی مکمل ختم کرنے کا فیصلہ

A busy petrol pump in Pakistan with motorcyclists waiting in line, representing fuel prices
پاکستانی عوام کے لیے مہنگائی کے اس دور میں ایک اور پریشان کن خبر سامنے آئی ہے۔ حکومت نے ملک بھر میں موٹر سائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے جاری فیول سبسڈی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ہونے والے قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ساتویں اجلاس میں کیا گیا، جس کی منظوری وزیرِ اعظم کی جانب سے بھی دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی فوری طور پر ہوگا۔

عالمی قیمتوں میں کمی کا ریلیف غائب: ڈیٹا سسٹم کی خامیاں جواز بن گئیں

حیرت انگیز طور پر حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے سبسڈی ہی ختم کر دی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران یہ ہدایت بھی جاری کی گئی کہ عوامی خدمات کی بہتری کے لیے ڈیٹا اور ترسیل کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے، یعنی حکومت اب تک مستحقین کا درست ڈیٹا ہی تیار نہیں کر سکی اور اس انتظامی ناکامی کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اس فیصلے پر بنیادی تجزیہ اور تبصرہ یہ بنتا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف) کے شدید دباؤ میں ہے۔ عالمی قیمتیں کم ہونے کے باوجود سبسڈی کا خاتمہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عوامی ریلیف کے بجائے اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ کسانوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کی سبسڈی رکنے سے آنے والے دنوں میں مال برداری کے کرائے بڑھیں گے، جس کا سیدھا اثر سبزیوں، پھلوں اور عام اشیاء خورونوش کی قیمتوں پر پڑے گا اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔

پاکستان میں پیٹرولیم بحران اور آئی ایم ایف شرائط کا پسِ منظر (Evergreen Context):

پاکستان میں فیول پر دی جانے والی سبسڈیز اور معاشی فیصلوں کا ایک طویل اور پیچیدہ پسِ منظر رہا ہے:

  • ماضی کی سبسڈیز کا خاتمہ (2022-2023): پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے ماضی میں بھی پیٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی بھاری سبسڈیز ختم کیں اور پیٹرولیم لیوی کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچایا۔
  • موٹر سائیکل اسکیم کی ناکامی: ماضی میں کم آمدنی والے طبقے اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے سستا پیٹرول فراہم کرنے کے متعدد اعلانات کیے گئے، لیکن ڈیٹا کی عدم دستیابی اور ناقص حکمتِ عملی کے باعث یہ اسکیمیں کبھی زمین پر نافذ نہ ہو سکیں۔
  • آئی ایم ایف کی سخت شرائط: عالمی مالیاتی فنڈ کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان ٹارگٹڈ سبسڈیز (جیسے بینظیر انکم سپورٹ) کے علاوہ کسی بھی قسم کی عام فیول سبسڈی نہ دے، کیونکہ اس سے ملکی خزانے پر ناقابلِ تلافی بوجھ پڑتا ہے۔

حکومت کا یہ نیا معاشی فیصلہ غریب اور مڈل کلاس طبقے کو مزید دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔ جب تک ملکی پیداوار اور متبادل توانائی کے ذرائع پر کام نہیں ہوگا، عوام اسی طرح عالمی منڈی اور ملکی فیصلوں کے درمیان پِستی رہے گی۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Economic Shock: Pakistan Government Decides to Abolish Fuel Subsidy Nationwide


ISLAMABAD: In a major economic development, the Government of Pakistan has decided to completely roll back the fuel subsidy program across the country. Chaired by Deputy Prime Minister Ishaq Dar, the National Steering Committee approved the decision, which will eliminate fuel relief for motorcyclists, small farmers, and public transport sectors in all provinces, Gilgit-Baltistan, and Azad Kashmir.

The IMF Factor and Impact on Inflation

Despite a recent decline in global oil prices, the government chose to abolish the subsidy to meet strict international financial commitments and streamline national data delivery systems. Economic analysts warn that removing subsidies on goods transport and agriculture will inevitably lead to a surge in freight charges, triggering a fresh wave of inflation for daily commodities and food items across the country.

Comments