عالمی قیمتوں میں کمی کا ریلیف غائب: ڈیٹا سسٹم کی خامیاں جواز بن گئیں
حیرت انگیز طور پر حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے سبسڈی ہی ختم کر دی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران یہ ہدایت بھی جاری کی گئی کہ عوامی خدمات کی بہتری کے لیے ڈیٹا اور ترسیل کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے، یعنی حکومت اب تک مستحقین کا درست ڈیٹا ہی تیار نہیں کر سکی اور اس انتظامی ناکامی کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
اس فیصلے پر بنیادی تجزیہ اور تبصرہ یہ بنتا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف) کے شدید دباؤ میں ہے۔ عالمی قیمتیں کم ہونے کے باوجود سبسڈی کا خاتمہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عوامی ریلیف کے بجائے اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ کسانوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کی سبسڈی رکنے سے آنے والے دنوں میں مال برداری کے کرائے بڑھیں گے، جس کا سیدھا اثر سبزیوں، پھلوں اور عام اشیاء خورونوش کی قیمتوں پر پڑے گا اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔
پاکستان میں پیٹرولیم بحران اور آئی ایم ایف شرائط کا پسِ منظر (Evergreen Context):
پاکستان میں فیول پر دی جانے والی سبسڈیز اور معاشی فیصلوں کا ایک طویل اور پیچیدہ پسِ منظر رہا ہے:
- ماضی کی سبسڈیز کا خاتمہ (2022-2023): پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے ماضی میں بھی پیٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی بھاری سبسڈیز ختم کیں اور پیٹرولیم لیوی کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچایا۔
- موٹر سائیکل اسکیم کی ناکامی: ماضی میں کم آمدنی والے طبقے اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے سستا پیٹرول فراہم کرنے کے متعدد اعلانات کیے گئے، لیکن ڈیٹا کی عدم دستیابی اور ناقص حکمتِ عملی کے باعث یہ اسکیمیں کبھی زمین پر نافذ نہ ہو سکیں۔
- آئی ایم ایف کی سخت شرائط: عالمی مالیاتی فنڈ کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان ٹارگٹڈ سبسڈیز (جیسے بینظیر انکم سپورٹ) کے علاوہ کسی بھی قسم کی عام فیول سبسڈی نہ دے، کیونکہ اس سے ملکی خزانے پر ناقابلِ تلافی بوجھ پڑتا ہے۔
حکومت کا یہ نیا معاشی فیصلہ غریب اور مڈل کلاس طبقے کو مزید دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔ جب تک ملکی پیداوار اور متبادل توانائی کے ذرائع پر کام نہیں ہوگا، عوام اسی طرح عالمی منڈی اور ملکی فیصلوں کے درمیان پِستی رہے گی۔

Comments
Post a Comment