ماضی کی تلخیاں اور کیپیٹل ہل حملے کا تنازع
امریکی صدر اور متوقع برطانوی وزیرِ اعظم کے مابین یہ تلخی نئی نہیں ہے۔ اینڈی برنہم ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے امریکی سیاسی نظام کو "زہریلا اور تقسیم کار" قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ جب 2021 میں ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی پارلیمنٹ (کیپیٹل ہل) پر حملہ کیا تھا، تو اینڈی برنہم نے سوشل میڈیا پر سخت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ "برطانیہ کا جو بھی سیاستدان ٹرمپ کو گھاس ڈالتا ہے، اسے اپنے آپ پر شرم آنی چاہیے"۔ اب ان دونوں لیڈرز کا آمنا سامنا ہونا برطانیہ اور امریکہ کے روایتی تعلقات کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تبصرے نیٹو (NATO) کے سیکرٹری جنرل مارک رٹے سے ملاقات کے دوران کیے۔ نیٹو سربراہ اس وقت واشنگٹن کے دورے پر ہیں تاکہ جولائی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے اتحاد میں پیدا ہونے والے شدید تناؤ کو کم کر سکیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کی جانے والی حالیہ جنگ کے بعد، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ، اٹلی، جرمنی اور اسپین جیسے اتحادیوں سے شدید ناراض ہیں کیونکہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے اس تنازع اور آبنائے ہرمز کو کھولنے میں امریکہ کا عسکری ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
واشنگٹن اور لندن کے مابین سفارتی دباؤ کا نیا دور
کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد برطانیہ کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسٹارمر نے نومبر 2024 میں ٹرمپ کی انتخابی جیت کے بعد ان کے ساتھ تعلقات متوازن رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن ایران جنگ پر عسکری تعاون نہ کرنے کے فیصلے نے واشنگٹن اور لندن کے تعلقات کو خراب کر دیا۔ اینڈی برنہم کی ممکنہ آمد اور ان کے سخت لبرل اور ماحول دوست (گرین انرجی) نظریات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں نیٹو اتحاد، دفاعی اخراجات اور عالمی جنگی حکمتِ عملی پر امریکہ اور برطانیہ کے مابین شدید سفارتی ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
امریکہ اور برطانیہ کے مابین ماضی کے تاریخی اختلافات کا ریکارڈ:
اگرچہ امریکہ اور برطانیہ کو گہرے اسٹریٹیجک اتحادی مانا جاتا ہے، لیکن ماضی میں بھی کئی مواقع پر دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان شدید اختلافات ریکارڈ کا حصہ رہے ہیں:
- ٹونی بلیئر اور کلنٹن (کوسوو تنازع): 1999 میں کوسوو کے بحران کے دوران برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر زمینی افواج بھیجنے کے حق میں تھے جبکہ امریکی صدر بل کلنٹن اس کے شدید مخالف تھے، جس سے دونوں میں تناؤ پیدا ہوا۔
- مارگریٹ تھیچر اور رونالڈ ریگن (گریناڈا پر حملہ): 1983 میں جب امریکہ نے جزیرہ گریناڈا پر حملہ کیا، تو برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر شدید غصے میں آ گئیں کیونکہ گریناڈا برطانوی دولتِ مشترکہ کا حصہ تھا اور امریکہ نے حملے سے پہلے لندن کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔
- ہیری ٹرومین اور کلیمینٹ ایٹلی (کوریا جنگ): 1950 میں کوریا کی جنگ کے دوران جب امریکہ نے ایٹم بم استعمال کرنے کا اشارہ دیا، تو برطانوی وزیرِ اعظم ایٹلی ہنگامی طور پر واشنگٹن پہنچے تاکہ امریکی صدر کو اس ہولناک اقدام سے روک سکیں۔
انقرہ میں ہونے والا اگلا نیٹو اجلاس یہ طے کرے گا کہ آیا یورپی ممالک ٹرمپ کے مطالبات کے سامنے جھکتے ہیں یا اینڈی برنہم کی ممکنہ قیادت میں برطانیہ اپنی خودمختار خارجہ پالیسی پر قائم رہتا ہے۔

Comments
Post a Comment