لندن نائٹ لائف؛ میئر صادق خان کا سوہو کے پب اور ریسٹورنٹس پر مقامی تنظیم کے اعتراضات مسترد کرنے کا فیصلہ
سوہو سوسائٹی کا متنازع فیصلہ اور رات 11 بجے کی پابندی
رپورٹ کے مطابق، 1972 سے قائم سوہو سوسائٹی نامی تنظیم نے، جو علاقے کے روایتی ماحول کو برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے، ایک نئی پالیسی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت وہ سوہو میں کھلنے والے ہر نئے ریسٹورنٹ، بار اور پب کے لائسنس، یہاں تک کہ پرانے لائسنسوں کی تجدید (Renewal) کی بھی مخالفت کرے گی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ رات 11 بجے کے بعد کسی بھی جگہ کو کھولنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی، جس کے باعث شہریوں کے لیے رات گئے وسطی لندن میں کھانے پینے کی سہولیات ملنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
میئر صادق خان کو ملنے والے نئے اور وسیع اختیارات
صادق خان نے سوہو سوسائٹی کے اس اقدام کو لندن کے مفاد کے خلاف قرار دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے رواں سال کے آخر تک میئر لندن کو نئے خصوصی اختیارات ملنے جا رہے ہیں، جن کے تحت وہ مقامی کونسلوں کے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے سکیں گے جو کاروباری مقامات کو بلاک کرتے ہیں۔
- لائسنسنگ فیصلے تبدیل کرنے کا اختیار: میئر اب نائٹ اکانومی کے لیے اہم علاقوں میں مقامی کونسل کے فیصلوں کو خود دیکھ کر تبدیل کر سکیں گے۔
- آؤٹ ڈور ڈائننگ کی واپسی: ان نئے اختیارات کی بدولت سوہو میں پب اور بارز رات گئے تک کھل سکیں گے اور کورونا وبا کی طرح ایک بار پھر سڑکوں پر کھلے آسمان تلے (Alfresco) کھانے پینے کا رجحان بڑھے گا، جسے رہائشیوں کی مہم کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
- عالمی ساکھ کا تحفظ: ریسٹورنٹس اور بارز کے مالکان نے میئر کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقامی تنظیم کی بات مانی جاتی تو انٹرنیشنل اسٹیج پر لندن کا امیج تباہ ہو جاتا۔
سوہو سوسائٹی کا مؤقف
دوسری جانب سوہو سوسائٹی کا کہنا ہے کہ وہ کوئی کاروباری دشمن تنظیم نہیں ہے بلکہ مقامی لوگوں کی رضاکارانہ انجمن ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ رات گئے تک چلنے والی نائٹ لائف کی وجہ سے علاقے میں شور شرابا، گندگی اور جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے، جبکہ کونسل کے پاس اس ہجوم کو سنبھالنے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔
لندن کی نائٹ لائف پہلے ہی زوال کا شکار ہے اور کئی مقامات بند ہو چکے ہیں، ایسے میں صادق خان کا یہ نیا فیصلہ لندن کی راتوں کی رونقیں بحال کرنے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment