انڈین کرکٹ ٹیم اور آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بنگلورو کے اسٹار بلے باز ویرات کوہلی کی بھارت سے لندن منتقلی کی حقیقی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ ویرات کوہلی کے سابق ساتھی کھلاڑی اور انگلش کرکٹر لیام لیونگسٹن نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اسٹار کرکٹر کی نجی زندگی اور ان کے اس بڑے فیصلے سے متعلق انتہائی دلچسپ اور اہم انکشافات کیے ہیں۔
"وہ بھارت میں ملنے والی غیر معمولی شہرت سے دور رہنا چاہتے ہیں"
لیام لیونگسٹن کا کہنا ہے کہ ویرات کوہلی میدان کے اندر جتنے جارحانہ اور سخت نظر آتے ہیں، میدان سے باہر وہ اتنے ہی پُرسکون، سادہ، خاندانی اور دوستانہ مزاج انسان ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کوہلی بھارت میں ملنے والی حد سے زیادہ شہرت اور ہر وقت میڈیا و عوام کی توجہ کا مرکز بنے رہنے والی زندگی کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ ایک ایسی آزاد اور پُرسکون زندگی کے خواہشمند تھے جہاں ان پر ہر وقت کیمروں کی نظر نہ ہو اور وہ عام انسان کی طرح گھوم پھر سکیں۔
لیونگسٹن کے مطابق، ویرات کوہلی ایک خوش مزاج شخصیت کے مالک ہیں جو اپنے خاندان (انوشکا شرما اور بچوں) کے ساتھ وقت گزارنا اور دنیا گھومنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں صرف شہرت کی وجہ سے گھر کے اندر بند رہنا بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ بھارت میں ہر وقت ان کی نگرانی اور کیمروں کے چوکنا رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ سے بچنے کے لیے ہی انہوں نے اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد بیرونِ ملک (لندن) منتقل ہونے کا حتمی فیصلہ کیا تھا۔
لیام لیونگسٹن کے پوڈکاسٹ کے اہم نکات
پوڈکاسٹ کے دوران برطانوی کرکٹر نے ویرات کوہلی کی شخصیت کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی:
- دوہرا مزاج: ویرات کوہلی میدان میں انتہائی جارحانہ مگر میدان سے باہر ایک نہایت سادہ اور فیملی مین ہیں۔
- کیمروں کا دباؤ: بھارت میں ان کی ہر حرکت پر کیمرے اور عوام کی نظر ہوتی تھی، جس سے وہ آزادی محسوس نہیں کرتے تھے۔
- لندن منتقلی کا سبب: بیٹی کی پیدائش کے بعد انہوں نے پُرسکون ماحول اور بچوں کی عام انداز میں پرورش کے لیے لندن شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا۔
ویرات کوہلی کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض اوقات دنیا کی ہر آسائش اور شہرت بھی انسان کو وہ سکون نہیں دے پاتی جو ایک عام اور آزاد زندگی میں ملتا ہے۔

Comments
Post a Comment