شہری سے بدتمیزی کا انجام؛ لاہور میں ٹریفک کانسٹیبل معطل، انکوائری کا حکم

Lahore traffic warden managing road vehicle movement under supervision of city authorities
صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک شہری (وین ڈرائیور) کے ساتھ سرعام بدتمیزی اور نازیبا رویہ اختیار کرنا ٹریفک کانسٹیبل کو انتہائی مہنگا پڑ گیا ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر (CTO) لاہور نے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار اہلکار کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور اس کے خلاف باقاعدہ محکمانہ انکوائری شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

سوشل میڈیا ویڈیو پر سی ٹی او کا فوری ایکشن

ذرائع کے مطابق، لاہور کے ایک مصروف شاہراہ پر تعینا ت ٹریفک کانسٹیبل نے چالان یا کسی معمولی تنازع پر ایک وین ڈرائیور کے ساتھ انتہائی نامناسب سلوک کیا، جس کے دوران گالی گلوچ اور بدتمیزی کی گئی۔ وہاں موجود کسی شہری نے اس پورے واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔ ویڈیو سامنے آنے پر سی ٹی او لاہور نے فوری ایکشن لیا اور کانسٹیبل کو معطل کر کے لائن حاضر کرنے کا حکم دیا۔

ٹریفک پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے یا شہریوں کی تذلیل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی، اور عوام کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے اہلکار محکمے میں رہنے کے حقدار نہیں ہیں۔


محکمانہ انکوائری اور سخت وارننگ

معطلی کے بعد اب اس کیس کی تفصیلی تحقیقات کے لیے ایک سینئر افسر کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے جو چند روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے تمام فیلڈ اسٹاف کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں:

  • شہریوں سے خوش اخلاقی: ڈیوٹی پر موجود تمام وارڈنز اور کانسٹیبلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ بھی صرف قانونی دائرے میں رہ کر بات کریں اور اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
  • زیرو ٹالرنس پالیسی: بدتمیزی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور رشوت ستانی کی شکایات پر "زیرو ٹالرنس پالیسی" اپنائی جائے گی اور قصوروار پائے جانے والے اہلکاروں کو محکمے سے فارغ بھی کیا جا سکتا ہے۔
  • عوامی اعتماد کی بحالی: سی ٹی او لاہور نے واضح کیا کہ ٹریفک پولیس کا مقصد شہریوں کی سہولت اور سڑکوں پر نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے، نہ کہ ان کے لیے مشکلات یا ذہنی اذیت کا باعث بننا۔

عوامی حلقوں کی جانب سے سی ٹی او لاہور کے اس فوری اور سخت اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے دیگر اہلکاروں کے رویوں میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Lahore Traffic Constable Suspended Over Misbehavior with Van Driver


A traffic constable in Lahore has been suspended and faced rigorous departmental inquiry after a video of him misbehaving and verbally abusing a citizen (a van driver) went viral on social media. Chief Traffic Officer (CTO) Lahore took immediate notice of the digital footage and ordered strict disciplinary action against the field officer.

CTO Takes Prompt Action on Viral Video

The viral video captured the traffic constable using highly inappropriate language and aggressively dealing with a public transport driver during a routine roadside argument. Following widespread public outrage on social media platforms, the CTO suspended the official with immediate effect, shifting him back to the police lines pending a formal departmental probe.

Departmental Inquiry and Zero-Tolerance Standards

A senior traffic officer has been designated to investigate the matter and submit a conclusive report within days. Traffic authorities reiterated a strict zero-tolerance policy against administrative high-handedness and public harassment, issuing fresh directives to all field wardens to maintain utmost professionalism and ethical standards while enforcing traffic regulations on the road.

The swift action by the top brass has been widely welcomed by citizens as a positive step toward ensuring accountability within the law enforcement infrastructure.

Comments