موسیقی کا عظیم گھرانہ اور طارق طافو کا فنی سفر: انسانی ٹچ
طارق طافو کا تعلق پاکستان کے ایک انتہائی معتبر اور تاریخی موسیقی کے گھرانے سے تھا۔ وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈری موسیقار اور طبلہ نواز استاد طافو خان کے صاحبزادے تھے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ طارق طافو غزل گائیکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ استاد غلام علی کے داماد بھی تھے۔ انہوں نے موسیقی کی دنیا کو کئی لازوال گیت دیے، لیکن جو مقبولیت ان کے گانے "لاہور لاہور اے" کو ملی، اس نے انہیں رہتی دنیا تک امر کر دیا۔ مرحوم نے اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔
یہاں بنیادی تبصرہ اور تجزیہ یہ بنتا ہے کہ طارق طافو جیسے فنکار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ انہوں نے لوک اور پاپ موسیقی کو جس خوبصورت انداز میں مکس کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا، وہ ان کا ہی خاصہ تھا۔ ان کی موت سے نہ صرف طافو خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے، بلکہ اس نے موسیقی کے متوالوں کو بھی اداس کر دیا ہے۔ ان کے گانے آج بھی لاہور کی ثقافت اور زندہ دلی کی سب سے بڑی علامت مانے جاتے ہیں۔
موسیقی کے اس عظیم گھرانے کا تاریخی پسِ منظر (Evergreen Context):
طارق طافو کے خاندان نے پاکستان کی فلم اور لوک موسیقی کو پروان چڑھانے میں جو خدمات سرانجام دیں، وہ تاریخ کا حصہ ہیں:
- استاد طافو خان (والد): طارق طافو کے والد، استاد طافو نے لولی ووڈ کے سنہری دور میں سینکڑوں فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور ملکہ ترنم نور جہاں سمیت پاکستان کے تمام بڑے گلوکاروں کے ساتھ لازوال گیت ریکارڈ کیے۔ وہ طبلہ نوازی میں دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔
- استاد غلام علی (سسر): طارق طافو کے سسر استاد غلام علی پٹیالہ گھرانے کے ایک ایسے غزل گائیک ہیں جن کی گائیکی کی سرحدیں پار انڈیا اور پوری دنیا میں پوجا کی جاتی ہے۔ "چپکے چپکے رات دن" جیسی غزلیں ان کا اثاثہ ہیں۔
- ثقافتی اثاثہ: گانا 'لاہور لاہور اے' صرف ایک گیت نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی ثقافتی پہچان بن چکا ہے، جو ہر سال جشنِ بہاراں اور واہگہ بارڈر کی تقریبات میں چایا رہتا ہے۔
استاد طارق طافو کی آواز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے والد استاد طافو خان اور سسر استاد غلام علی سمیت تمام لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments
Post a Comment