بم گریڈ یورینیم اور زمین دوز ایٹمی مراکز کا معما
ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف اپناتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور بجلی بنانے کے مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن مغربی دفاعی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ تہران نے خفیہ طور پر 400 کلوگرام سے زائد ایسا یورینیم تیار کر رکھا ہے جو بم بنانے کی صلاحیت (Bomb-grade purity) کے بالکل قریب ہے۔ یہ قیمتی اور خطرناک یورینیم مبینہ طور پر ایران کی ان تین زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کے نیچے دفن ہے، جنہیں گزشتہ سال امریکی حملوں میں شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔ ایران اب تک اس افزودہ یورینیم کو تلف کرنے یا دستبردار ہونے سے صاف انکار کرتا آیا ہے، اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو آنے والے مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع بننے والا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: صدر ٹرمپ پر سیاسی دباؤ کا الٹا اثر
ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے بنائے ہوئے 2015 کے کثیر الجہتی ایران معاہدے (JCPOA) کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا، جس کے بعد ایران نے بدلے میں اپنے یورینیم کی افزودگی کو ریکارڈ حد تک تیز کر دیا۔ اب ٹرمپ پر یہ ثابت کرنے کا بھاری دباؤ ہے کہ وہ ماضی کے مقابلے میں ایک زیادہ سخت اور بہتر ڈیل حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو دوسری طرف تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
امریکہ ایران جوہری تنازع کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
اس ایٹمی جنگ کے خطرے اور پسِ منظر کو سمجھنے کے لیے ماضی کے ان اہم ترین موڑ پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
- 2015 کا تاریخی معاہدہ: باراک اوباما کے دور میں ایران پر سے عالمی معاشی پابندیاں اس شرط پر ہٹائی گئی تھیں کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرے گا اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو تلاشی کی اجازت دے گا۔
- 2018 میں ٹرمپ کا خروج: ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ناقص قرار دے کر امریکہ کو الگ کر لیا، جس کے بعد ایران نے تمام عالمی پابندیوں کو ہوا میں اڑا کر بم گریڈ یورینیم کی تیاری شروع کر دی۔
- گزشتہ سال کے امریکی حملے: امریکی فضائیہ نے ایران کے تین بڑے اور حساس ترین جوہری مراکز کو نشانہ بنا کر انہیں شدید نقصان پہنچایا تھا، جس کے بعد سے خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی اس تازہ ترین دھمکی کے بعد اب گیند تہران کے کورٹ میں ہے۔ کیا ایران اس شدید فوجی اور معاشی دباؤ کے سامنے جھک کر اپنے یورینیم سے دستبردار ہو جائے گا، یا مشرقِ وسطیٰ واقعی کسی ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آنے والا ہے؟ یہ دنیا کے لیے سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔

Comments
Post a Comment