سوڈانی شہری ہادی الودید اور ماضی کا امیگریشن ریکارڈ
رپورٹ کے مطابق، بیلفاسٹ حملے کے 30 سالہ سوڈانی ملزم ہادی الودید نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 2023 میں آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان کامن ٹریول ایریا کے راستے برطانیہ میں داخل ہوا تھا۔ ہوم آفس کے ریکارڈ سے تصدیق ہوئی ہے کہ اسے اسی سال پناہ گزین (Refugee) کا درجہ دیا گیا تھا اور اس کے پاس 2028 تک برطانیہ میں رہنے کی قانونی اجازت موجود ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس وقت ملزم کو یہ اجازت ملی، اس وقت سویلا بریورمین وزیراعظم رشی سنک کے دورِ حکومت میں ہوم سیکریٹری تھیں اور رابرٹ جینرک وزیرِ برائے امیگریشن کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ یہ دونوں رہنما کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر نائجل فاریج کی جماعت "ریفارم یوکے" میں شامل ہو چکے ہیں اور اب پارلیمنٹ میں امیگریشن کے خلاف سخت ترین موقف اپنانے کے لیے مشہور ہیں۔ ناقدین اب ان پر دوغلے پن کا الزام لگا رہے ہیں۔
سویلا بریورمین کا دفاع اور رابرٹ جینرک پر تنقید
اس سنگین معاملے پر ہوم سیکریٹری سویلا بریورمین نے جے بی نیوز (GB News) سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا دفاع کیا ہے اور تمام ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال دیا ہے:
- اختیارات کی کمی کا دعویٰ: سویلا بریورمین کا کہنا ہے کہ بطور ہوم سیکریٹری انہوں نے بارہا وزیراعظم اور کابینہ کو یورپی انسانی حقوق کی عدالت (ECHR) چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ اس قسم کے داخلے روکے جا سکیں، لیکن ان کے اپنے ساتھیوں نے انہیں بلاک کیا۔
- سابقہ حکومت پر تنقید: انہوں نے کنزرویٹو پارٹی کو "غدار اور ناکام" جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے 90 فیصد پناہ گزینوں کی درخواستیں منظور ہو جاتی ہیں اور انہوں نے اسی لیے پارٹی چھوڑی۔
- کمیونٹی نوٹ کا سامنا: دوسری جانب رابرٹ جینرک نے سوشل میڈیا پر سوڈانی شہریوں کے ویزوں پر پابندی کا مطالبہ کیا، تو ایکس (X) نے ان کی پوسٹ کے نیچے ایک 'کمیونٹی نوٹ' لگا دیا جس میں عوام کو یاد دلایا گیا کہ یہ ملزم خود ان کے دورِ وزارت میں پناہ گزین بنا تھا۔
بیلفاسٹ کا یہ واقعہ اب برطانیہ میں تارکینِ وطن کے خلاف مہم چلانے والی دائیں بازو کی جماعت "ریفارم یوکے" کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا بن چکا ہے۔

Comments
Post a Comment