ایڈہاک کمیٹی سے مستقل صدارت تک کا سفر
تمیم اقبال اس سے قبل دو ماہ تک بورڈ کی عبوری (ایڈہاک) کمیٹی کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے رواں سال اپریل میں سابق صدر امین الالسلام کی سربراہی میں قائم منتخب بورڈ کو تحلیل کر دیا تھا، جس کے بعد عبوری انتظامیہ کے تحت نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ صدر چُننے کا یہ عمل پورے دن جاری رہا، جس میں روایتی ووٹنگ کے ساتھ ساتھ جدید ای بیلٹنگ کا بھی استعمال کیا گیا۔
ووٹنگ کا انعقاد ڈھاکا میں بورڈ کے ہیڈکوارٹرز شیر بنگلا نیشنل اسٹیڈیم میں ہوا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مختلف زمروں سے 23 ڈائریکٹرز منتخب ہوئے، جبکہ بعد ازاں حکومت کی جانب سے دو نمائندوں کا اعلان کیا گیا، یوں مجموعی طور پر ایک 25 رکنی مضبوط بورڈ تشکیل پایا ہے جو اب تمیم اقبال کی سربراہی میں کام کرے گا۔ تمیم اقبال کا شمار بنگلادیش کی کرکٹ تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے 391 انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ گزشتہ سال ڈھاکا پریمیئر لیگ کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے باعث ان کا شاندار کرکٹ کیریئر اچانک اختتام پذیر ہو گیا تھا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی خصوصی مبارکباد
تمیم اقبال کے بی سی بی کا صدر منتخب ہونے پر بین الاقوامی سطح سے بھی مبارکبادوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے بھی خصوصی ردِعمل کا اظہار کیا ہے:
- نیک تمناؤں کا اظہار: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے تمیم اقبال کو بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
- خطے میں کرکٹ کا فروغ: محسن نقوی کا کہنا تھا کہ تمیم اقبال جیسے لیجنڈ کا کرکٹ بورڈ کا صدر بننا خطے میں کھیل کے فروغ کے لیے ایک انتہائی خوش آئند پیشرفت ہے۔
- بہتری کی امید: انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمیم اقبال کی متحرک قیادت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کھیل کی ترقی اور بہتری کے لیے مزید مؤثر اور مثبت کردار ادا کرے گا۔
تمیم اقبال کی بطور صدر تعیناتی سے بنگلادیشی کرکٹ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، اور شائقین کو امید ہے کہ وہ بورڈ کے انتظامی معاملات کو بھی اپنی بیٹنگ کی طرح جارحانہ انداز میں چلائیں گے۔

Comments
Post a Comment