بغیر کسی اضافی مالی بوجھ کے اِن ہاؤس تیاری اور 12 اہم فیچرز
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق یہ سسٹم صوبے بھر کی بسوں، ویگنوں، رکشوں، ٹیکسیوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں نصب کیا جائے گا۔ خاص بات یہ ہے کہ اتھارٹی نے حکومت پر کسی بھی قسم کا اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر یہ پورا نظام اِن ہاؤس (In-house) خود تیار کیا ہے۔ یہ کیو آر پینک بٹن پبلک سیفٹی ایپ اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ذریعے گھر بیٹھے بالکل مفت حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس جدید سسٹم میں مسافروں کے تحفظ کے لیے 12 انتہائی اہم فیچرز شامل کیے گئے ہیں، جن میں لائیو کال، ویڈیو کال، لائیو چیٹ، لوکیشن شیئرنگ، گاڑی کی تصدیق اور فوری پولیس رسپانس شامل ہیں۔ مسافر سفر کے آغاز پر ہی اس کیو آر کوڈ کو اسکین کر کے گاڑی، اس کے مالک اور ڈرائیور کی تصدیق شدہ معلومات حاصل کر سکیں گے، اور یہ تفصیلات اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھی شیئر کر پائیں گے۔
ہنگامی صورتحال میں 15 پر فوری رابطہ اور پولیس رسپانس
کسی بھی ہنگامی یا غیر محفوظ صورتحال کی صورت میں یہ سسٹم شہریوں اور ڈرائیورز دونوں کے لیے لائف لائن ثابت ہوگا:
- فوری کنٹرول روم رابطہ: ہنگامی حالت میں مسافر کی لائیو لوکیشن اور گاڑی کا ڈیٹا فوری طور پر سیف سٹی کنٹرول روم کو منتقل ہو جائے گا۔
- ڈرائیورز کے لیے تحفظ: مسافروں کے ساتھ ساتھ ڈرائیورز بھی کسی ناگہانی آفت یا خطرے کی صورت میں اس بٹن کے ذریعے فوری پولیس مدد حاصل کر سکیں گے۔
- اسمارٹ سیکیورٹی: گاڑی کی ملکیت تبدیل ہونے پر پرانا کیو آر کوڈ خود بخود غیر فعال ہو جائے گا اور نئے مالک کے ریکارڈ کے بعد ہی نیا کوڈ جاری ہوگا۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم اور ایم ڈی پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی احسن یونس کا کہنا ہے کہ یہ اسمارٹ ٹیکنالوجی خواتین، بزرگوں اور طلبہ سمیت روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کے تحفظ میں گیم چینجر ثابت ہوگی اور پنجاب بھر کی پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک ڈیجیٹل سیفٹی نیٹ ورک میں بدل دے گی۔
پنجاب حکومت کا یہ ڈیجیٹل اقدام صوبے میں اسمارٹ پولیسنگ اور پبلک سیفٹی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

Comments
Post a Comment