برطانیہ میں بڑا سیاسی بھونچال؛ وزیرِ دفاع جان ہیلی کا وزیراعظم اسٹارمر پر سنگین الزامات کے ساتھ استعفیٰ
"چانسلر ناامید اور وزیراعظم نااہل ہیں"
جان ہیلی کا یہ استعفیٰ محض ایک عام رخصتی نہیں بلکہ اصولوں کی جنگ بن چکا ہے۔ خط کے سب سے دھماکہ خیز جملے میں انہوں نے برطانوی چانسلر کو دفاعی بجٹ دینے کے معاملے میں "امید سے عاری" اور وزیراعظم کیر اسٹارمر کو اپنے ہی کابینہ ارکان پر کنٹرول رکھنے میں "نااہل" قرار دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ خط برطانوی حکومت کے اندرونی انتشار اور مالیاتی مینجمنٹ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، برطانوی فوج پہلے ہی فنڈز کی کمی اور خالی گوداموں کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی جنگیں عروج پر ہیں، اور روس و چین کی طرف سے خطرات بڑھ رہے ہیں، دفاعی بجٹ میں اربوں پاؤنڈز کی کٹوتی نے فوج اور حکومت کے مابین خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ جان ہیلی کو پیر کی صبح بجٹ کی جو فائنل سمز (رقم) دکھائی گئیں، وہ ان کی توقعات سے اربوں پاؤنڈز کم تھیں۔
وزیراعظم کیر اسٹارمر کا مستقبل خطرے میں
اس استعفے کے بعد لیبر پارٹی کے اندرونی حلقوں میں وزیراعظم کیر اسٹارمر کی قیادت پر شدید سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں:
- قومی سلامتی کا نقصان: وہ ارکانِ پارلیمنٹ جو کیر اسٹارمر کو قومی سلامتی کے لیے ایک بہترین لیڈر سمجھتے تھے، اب ان کا یہ بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے۔
- اینڈی برنہم کی واپسی کی امیدیں: لیبر پارٹی کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے اب اپنے سیاسی مستقبل اور امیدوں کا مرکز مینڈ فیلڈ کے اینڈ برنہم کو بنانا شروع کر دیا ہے، جن کی لندن واپسی کی بازگشت تیز ہو گئی ہے۔
- بجٹ کا بحران: چانسلر کی جانب سے ٹیکسوں کے وعدوں اور اسکولوں و ہسپتالوں کے فنڈز کو بچانے کے چکر میں ملکی دفاع کو قربان کرنے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
عالمی جنگوں کے اس دور میں برطانوی وزیرِ دفاع کا یہ استعفیٰ کیر اسٹارمر حکومت کے خاتمے یا پارٹی کے اندر بغاوت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment