پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کا حالیہ اجلاس شدید ہنگامہ آرائی اور سیاسی تناؤ کا شکار ہو گیا ہے، جہاں حکمران جماعت سنی اتحاد کونسل اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے ناراض اراکین نے صوبائی حکومت کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ اراکینِ اسمبلی نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اگر آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں مشاورت نہ کی گئی اور ان کی ہدایات کو شامل نہ کیا گیا، تو وہ کسی صورت صوبائی بجٹ کو پاس نہیں ہونے دیں گے۔
صوبائی قیادت پر عدم اعتماد اور اراکین کا غصہ
اسمبلی اجلاس کے دوران ارکان نے اپنی ہی صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے رویے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پارلیمانی روایات کے برعکس اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ناراض گروپ کا مؤقف تھا کہ صوبے کے اہم ترین مالیاتی فیصلوں اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں سینئر ارکان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو بانی پی ٹی آئی کے وژن کے سراسر خلاف ہے۔
احتجاج کے بنیادی مطالبات اور اہم نکات
ایوان میں اراکینِ اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے اہم ترین مطالبات اور شکایات درج ذیل ہیں:
- عمران خان کی منظوری لازمی: اراکین نے مطالبہ کیا کہ بجٹ کی ایک ایک شق پر جیل میں بند عمران خان سے حتمی کلیئرنس لی جائے، ورنہ بجٹ دستاویز کو مسترد کر دیا جائے گا۔
- ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم: احتجاجی ارکان نے الزام عائد کیا کہ چند مخصوص حلقوں کو نوازا جا رہا ہے جبکہ حقیقی نظریاتی کارکنوں کے حلقوں کو بجٹ میں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔
- وزیر اعلیٰ کو الٹیمیٹم: اراکین نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے مطالبہ کیا کہ وہ بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چلنے کے بجائے فوری طور پر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلائیں اور تمام تحفظات دور کریں۔
خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والے اس نئے سیاسی بحران نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے لیے بجٹ کی ہموار منظوری کو ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے، اور اگر ناراض گروپ کو فوری طور پر راضی نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت کو شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment