نور مقدم قتل کیس؛ ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد، سزائے موت برقرار

Court layout illustration representing the final verdict on Zahir Jaffer review petition rejection in Noor Mukadam case

اسلام آباد: ملک کے سب سے ہائی پروفائل مقدمات میں سے ایک، نور مقدم قتل کیس میں عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کی آخری قانونی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے ظاہر جعفر کی جانب سے دائر کردہ نظرِ ثانی (Review Petition) کی درخواست پر سماعت کے بعد متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے، اور مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

وکیل کے دلائل، ذہنی حالت کا مؤقف اور عدالت کے سخت سوالات

سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے ایک بار پھر مجرم کی ذہنی حالت (Mental Health) کو بنیاد بنا کر سزا میں نرمی کا مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی۔ دفاعی کونسل نے دلائل دیے کہ مجرم شدید ذہنی مسائل کا شکار ہے، اس لیے اسے سزائے موت دینے کے بجائے اس کی حالت پر غور کیا جانا چاہیے اور قانون کے مطابق ریلیف دیا جائے۔

تاہم، 3 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ان دلائل پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور وکیلِ دفاع سے کئی تیکھے سوالات کیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جرم کی سنگینی اور شواہد کی موجودگی میں اس قسم کے بہانے قبول نہیں کیے جا سکتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ میڈیکل رپورٹس اور ٹرائل کے دوران سامنے آنے والے حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ جرم انتہائی سفاکی اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا، اس لیے اس مرحلے پر ذہنی حالت کا عذر پیش کر کے قانون کی گرفت سے نہیں بچا جا سکتا۔

متفقہ فیصلہ اور قانونی کوریج کے اہم نکات

عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فوری طور پر فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ ہی دیر بعد سنا دیا گیا۔ فیصلے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • درخواست مسترد: تینوں ججز نے متفقہ طور پر ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرِ ثانی کی اپیل کو خارج کر دیا۔
  • ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے برقرار: عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو درست قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مجرم کسی بھی قسم کی رعایت کا حقدار نہیں ہے۔
  • انصاف کی فتح: مقتولہ نور مقدم کے خاندان اور سول سوسائٹی نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد اب ظاہر جعفر کے پاس تمام بنیادی عدالتی فورمز ختم ہو چکے ہیں اور سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کی آخری قانونی گنجائش بھی دم توڑ گئی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Noor Mukadam Case: Court Rejects Zahir Jaffer's Review Petition, Upholds Death Sentence


ISLAMABAD: In a decisive legal development for the high-profile Noor Mukadam murder case, a three-member bench headed by Justice Hashim Kakar has unanimously rejected the review petition filed by the prime convict, Zahir Jaffer, maintaining his death penalty.

Defense Pleads Mental Health, Bench Raises Strict Inquiries

During the courtroom proceedings, Zahir Jaffer's defense counsel, Khawaja Haris, presented arguments focused on the convict's mental state, urging the court to review the capital punishment on medical and psychological grounds. However, the bench raised strict inquiries regarding the concrete evidence and the brutal nature of the pre-planned crime, stating that insanity pleas cannot negate the overwhelming forensic proof brought forward during the trial.

Final Legal Recourse Exhausted

Following a comprehensive analysis of the arguments from both sides, the 3-judge bench issued a unanimous verdict dismissing the appeal. This dismissal effectively closes major judicial avenues for the convict, solidifying the previous execution orders issued by the lower and provincial courts.

Comments