"یا تو معاہدہ ہوگا یا میں انہیں نیست و نابود کر دوں گا"
صدر ٹرمپ نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ممکنہ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو وہ ایران پر شدید ترین حملے کریں گے۔ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے براہِ راست بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار بھی کیا، جو تنازع کے آغاز میں امریکی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے پاس ایرانی سپریم لیڈر کی موجودہ لوکیشن کے بارے میں معلومات ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ تین ماہ سے جاری اس جنگ کے خاتمے کا معاہدہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب امریکہ ان کے منجمد کردہ 24 ارب ڈالرز کے اثاثے رہا کرے۔ تاہم امریکی انتظامیہ نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث نازک جنگ بندی کا معاہدہ شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ایرانی اثاثے خلیجی اتحادیوں کی بحالی کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق امریکی ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو پہنچائے گئے نقصانات کا تخمینہ لگائیں۔ امریکہ ان ایرانی اثاثوں کو کویت اور بحرین جیسے اپنے خلیجی اتحادیوں کے نقصانات کے ازالے اور تعمیرِ نو کے لیے ری ڈائریکٹ کرنے پر غور کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ خلیج میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ تاہم امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ زیادہ تر میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے، جبکہ جواب میں امریکی افواج نے بھی آبنائے ہرمز میں ایران کے ساحلی راڈار سائیٹس کو نشانہ بنایا۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کے وزیر نے بھی ایرانی قیادت کو ایک خصوصی خط پہنچانے کے لیے تہران کا دورہ کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے مابین یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اثاثوں کی منتقلی کی دھمکی مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور ہولناک جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment