"شام اور لبنان پر حملے ترکیے کے لیے بھی خطرہ ہیں"
ترک صدر نے اپنے خطاب میں علاقائی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ شام اور لبنان پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملے براہِ راست ترکیے کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کی اس غنڈہ گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو اس کے بھیانک نتائج پورے خطے اور تمام انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے۔
طیب اردوان نے زور دیا کہ تاریخ کو دوبارہ دُہرانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہیے اور معصوم انسانوں کے قتلِ عام پر خاموشی عالمی المیہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
عالمی برادری اور انسانی ہمدردی کے محاذ کو پکار
ترک صدر نے اپنے خطاب کے آخر میں عالمی برادری کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے درج ذیل اہم نکات سامنے رکھے:
- انسانیت کا محاذ: اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکنا کسی ایک ملک کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت اور انسانی ہمدردی کے محاذ کا مشترکہ فریضہ ہے۔
- تاریخی سبق: دنیا کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور کسی بھی طاقت کو پورے خطے کا امن تباہ کرنے کی کھلی چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔
- علاقائی یکجہتی: مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو اس نازک صورتحال میں باہمی اختلافات بھلا کر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
صدر اردوان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور ترکیے اس تنازعے میں مظلوموں کی حمایت میں سب سے آگے نظر آ رہا ہے۔

Comments
Post a Comment