انوکھا علاج؛ ذہنی و جسمانی مریضوں کی صحت یابی کے لیے 'تھراپی گدھوں' کا استعمال شروع

Patient smiling while stroking a trained therapy donkey during an emotional support session

طبی سائنس اور نفسیات کی دنیا میں مریضوں کے علاج کے لیے ایک انتہائی انوکھا اور حیران کن تجربہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جہاں مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں اور صدمات کا شکار افراد کی بحالی کے لیے اب گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ برطانوی فلاحی ادارے 'دی ڈونکی سینکچری' (The Donkey Sanctuary) کے تحت شروع کیے گئے اس پروگرام میں سدھائے ہوئے گدھوں کو بطور 'تھراپی اینیملز' استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتائج نے ماہرینِ صحت کو بھی حیران کر دیا ہے۔

تھراپی گدھے کس طرح مریضوں کی مدد کرتے ہیں؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گدھے فطرتی طور پر انتہائی پرسکون، صبر کرنے والے اور حساس جانور ہوتے ہیں۔ وہ انسانی جذبات کو بہت گہرائی سے محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس منفرد تھراپی سیشن کے دوران مریضوں کو ان گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے، انہیں چھونے، ان کی پشت پر ہاتھ پھیرنے اور ان کے ساتھ چہل قدمی کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

اس عمل سے مریضوں کے اندرونی خوف، ذہنی تناؤ (Stress) اور شدید صدمے (Trauma) کی کیفیت میں حیرت انگیز کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ تھراپی خاص طور پر ان بچوں اور بڑوں کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے جو بولنے، سیکھنے یا دیگر جسمانی و اعصابی معذوری کا شکار ہیں۔ گدھوں کی پرسکون موجودگی مریضوں میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور انہیں اپنے جذبات کا اظہار کرنے میں مدد دیتی ہے۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت

پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ صرف کتے یا گھوڑے ہی طبی تھراپی کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں، لیکن اس نئے نظام نے اس سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس فلاحی منصوبے کے تحت گدھوں کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ وہیل چیئر پر بیٹھے یا بستر پر موجود مریضوں کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آسکیں۔

  • بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن: تحقیق کے مطابق، ان پرسکون جانوروں کے ساتھ محض چند منٹ گزارنے سے مریضوں کا ہائی بلڈ پریشر نارمل سطح پر آ جاتا ہے اور دل کی دھڑکن متوازن ہوتی ہے۔
  • احساسِ تنہائی کا خاتمہ: نرسنگ ہومز اور بحالی مراکز میں مقیم عمر رسیدہ افراد، جو شدید تنہائی کا شکار ہوتے ہیں، ان گدھوں کے ساتھ جذباتی لگاؤ قائم کر کے اپنی ذہنی صحت میں واضح بہتری محسوس کر رہے ہیں۔
  • سماجی مہارتوں میں بہتری: یہ تھراپی ایسے بچوں کی سماجی اور رابطے کی صلاحیتوں کو ابھارنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے جو کسی اعصابی الجھن کے باعث لوگوں سے ملنے جلنے سے کتراتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ جانوروں کے ذریعے کیا جانے والا یہ قدرتی علاج مہنگی ادویات اور روایتی طریقوں کے مقابلے میں بعض اوقات زیادہ تیزی سے اثر دکھاتا ہے اور انسانی دماغ کو سکون فراہم کرتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Animal-Assisted Therapy: How Therapy Donkeys are Helping Patients Heal


An innovative medical approach is transforming patient rehabilitation worldwide as emotional support and therapy donkeys emerge as vital assets in treating mental and physical ailments. Organized by charities like 'The Donkey Sanctuary,' specially trained donkeys are interacting with vulnerable patients, yielding remarkable improvements in emotional and physiological well-being.

The Therapeutic Impact of Calm Interventions

Donkeys possess a naturally calm, intuitive, and patient demeanor, allowing them to bond exceptionally well with humans suffering from severe psychological trauma, anxiety, and learning difficulties. During interaction sessions, activities like grooming, stroking, and walking with these animals stimulate emotional grounding, drastically reducing physiological stress responses and lowering elevated blood pressure in participants.

A Rising Global Healthcare Trend

While dogs and horses have historically dominated animal-assisted clinical sessions, donkeys are proving highly effective due to their gentle, slow-moving response to physical disabilities. These sessions provide immense emotional comfort to elderly residents in care facilities and foster essential communication and social interaction skills in children dealing with complex neurodivergent conditions.

Comments