حکومتی دفاع: "عرق ریزی سے پیدا کی گئی مالی گنجائش"
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں ایک اہم پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال حکومت معاشی استحکام کی بات کر رہی تھی، لیکن اب معیشت کو گروتھ (ترقی) کی طرف لے جانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بجٹ میں ایکسپورٹ لیڈ گروتھ، زرعی شعبے کی ترقی اور تنخواہ دار طبقے کے نچلے درجے کو ریولیف فراہم کرنا بنیادی ترجیحات ہیں۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے دفاع میں درج ذیل اہم اقدامات پیش کیے گئے:
- ایکسپورٹرز کو ریلیف: تمام برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ انہیں ساڑھے 4 فیصد پر فنانسنگ اور 70 سے 71 ارب روپے کی اضافی سبسڈی دی جا رہی ہے۔
- زراعت اور نوجوان: زرعی سامان پر ٹیکس کا خاتمہ، زرعی فنانسنگ میں 15 فیصد اضافہ اور کسانوں کے لیے نئی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے یوتھ لون پروگرام کے تحت 262 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
- ایف بی آر میں اصلاحات: وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر سے "سفارش کلچر" کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اب میرٹ پر تبادلے اور تقرریاں ہو رہی ہیں۔
سابقہ ریکارڈ اور ایور گرین تناظر: آئی ایم ایف کا جکڑاؤ اور ملکی تاریخ
اگر ہم پاکستان کے بجٹ میکنگ کے سابقہ ریکارڈ اور ہسٹری پر نظر ڈالیں، تو پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے مستقل ایک ہی معاشی دائرے میں گھوم رہا ہے۔ جب بھی پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں جاتا ہے، بجٹ سازی کا اختیار بڑی حد تک ملکی اشرافیہ کے بجائے واشنگٹن کے ماہرین کے پاس چلا جاتا ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی 15 ہزار ارب روپے کا بھاری محصولات کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود طبقے پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ملکی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے جاگیرداروں اور ریٹیل سیکٹر کو دائرے میں نہیں لایا جاتا، تب تک عام تنخواہ دار طبقہ ہی ٹیکس کا سب سے بڑا بوجھ اٹھاتا رہے گا۔
تاجر برادری کا شکوہ: "کراچی کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا"
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گڑھ کراچی کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) نے اس بجٹ کو "عوام کے لیے غیر سود مند" اور صنعتوں کے لیے "ففٹی ففٹی" قرار دیا ہے۔ بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے پریس کانفرنس میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کراچی کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا۔ کراچی کے لیے پینے کے پانی کے سب سے بڑے 'کے فور (K-4)' منصوبے کے لیے صرف 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے یہ منصوبہ مزید کئی سال تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔
تاجروں کا موقف ہے کہ انرجی سیکٹر میں 47 فیصد لائن لاسز (بجلی چوری اور بدانتظامی) کا بوجھ اب بھی صنعتوں پر ڈالا جا رہا ہے، جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا اور پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے پرانے ٹیکس گزاروں کا ہی خون نچوڑ رہی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کی پالیسی بنائے۔
سیاسی مزاحمت: جماعت اسلامی کا ملک گیر تحریک کا عندیہ
دوسری جانب، عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے غصے کو زبان دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے بجلی، گیس اور پیٹرول پر عائد نئے ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک کا عندیہ دے دیا ہے۔ منصورہ سے ملک بھر کے نوجوانوں سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ ملک کا مراعات یافتہ طبقہ عیاشیاں کر رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق، حکومت مسائل کو حل کرنے کے بجائے عوامی آواز کو جیلوں اور غداری کے الزامات کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور کراچی کے مسائل صرف مکالمے اور انصاف سے حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تاجر برادری اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بجٹ کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں۔
نتیجہ: پاکستان کا نیا مالیاتی سال معاشی استحکام سے زیادہ سیاسی اور عوامی احتجاج کے ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ نظر آ رہا ہے، جہاں حکومت کی عرق ریزی ایک طرف اور عوام کی سسکیاں دوسری طرف ہیں۔

Comments
Post a Comment