امریکہ کا دعویٰ، ایران کا انکار؛ کیا ڈونلڈ ٹرمپ اور تہران کے مابین واقعی کوئی خفیہ معاہدہ ہونے والا ہے؟

Split image of US President Donald Trump and Iranian military leaders regarding the disputed peace deal
واشنگٹن اور تہران کے مابین جاری دہائیوں پرانی سفارتی جنگ اس وقت ایک دلچسپ اور سنسنی خیز موڑ پر پہنچ گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اچانک دعوے کو ایران نے یکسر مسترد کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے دنیا کو یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ آج ہی طے پا جائے گا، جس کے نتیجے میں دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کو تمام فریقین کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تاہم، تہران کی جانب سے اس دعوے پر آنے والا ردِعمل انتہائی سخت اور سرد تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کڑا جواب: "یہ محض ذاتی تشہیر ہے"

ایرانی فوج اور طاقتور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے امریکی صدر کے اس بیان کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز کسی بھی معاہدے پر دستخط کا دور دور تک کوئی امکان موجود نہیں۔ تہران کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 14 جون کی تاریخ کا ذکر کرنا محض ایک علامتی سیاسی پیغام ہے، جس کا مقصد عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنا اور اپنی ذاتی تشہیر کرنا ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ اس قسم کے غیر سنجیدہ دعوے پیچیدہ اور حساس سفارتی عمل کو فائدے کے بجائے شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

تبصرہ و تجزیہ: آبنائے ہرمز کی بندش اور ٹرمپ کارڈ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی غیر روایتی اور "آرٹ آف دی ڈیل" (Art of the Deal) والی خارجہ پالیسی کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ختم ہو جائے گی اور امریکہ ایران کے ساتھ مستقبل میں تعاون بڑھائے گا، ان کی اسی حکمتِ عملی کا حصہ لگتا ہے۔ لیکن تہران اس بار کسی جلدی میں دکھائی نہیں دیتا۔ ایرانی سفارت کاروں کا یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ چردہ مذاکرات اگر چل بھی رہے ہیں، تو بھی ان میں ابھی بہت سی خلیج باقی ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہے۔

سابقہ ریکارڈ اور پسِ منظر (Evergreen Context):

امریکہ اور ایران کے تعلقات کو سمجھنے کے لیے ماضی کے ان اہم ترین موڑ پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو اس اسٹوری کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں:

  • 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA): باراک اوباما کے دور میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت ایران پر سے پابندیاں ہٹائی گئی تھیں۔
  • 2018 میں ٹرمپ کا بڑا فیصلہ: اپنے پہلے دورِ صدارت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دے کر یکطرفہ طور پر امریکہ کو اس سے الگ کر لیا تھا اور ایران پر سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
  • قاسم سلیمانی کا واقعہ (2020): جنوری 2020 میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔
  • آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی اہمیت: یہ دنیا کی وہ سب سے اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے پوری دنیا کے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ ایران اکثر امریکہ کو دباؤ میں لانے کے لیے اسے بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔

امریکی صدر کے دعوے اور تہران کی حالیہ تردید کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ اونٹ ابھی کسی ایک کروٹ بیٹھنے والا نہیں۔ کیا یہ ٹرمپ کا کوئی نیا سیاسی جوا ہے یا ایران واقعی دباؤ میں آکر کوئی بڑا فیصلہ کرنے والا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Iran Rejects Donald Trump’s Claims of Signing an Imminent Peace Deal


TEHRAN: The Iranian military and the Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) have strongly dismissed US President Donald Trump’s assertions that a historic peace deal between Iran and the US would be signed today. Iranian officials stated that there is absolutely no possibility of any agreement being signed on Sunday, calling Trump's remarks "contrary to ground realities."

The Strategic Importance of the Strait of Hormuz

Earlier, Trump claimed that a deal was imminent, which would result in completely reopening the vital Strait of Hormuz to all parties and easing regional tensions. Tehran, however, characterized Trump's announcement as a mere symbolic political stunt aimed at self-promotion and media attention. This stark contradiction highlights the deep diplomatic rift that remains despite ongoing international pressures.

Comments