امریکہ کا دعویٰ، ایران کا انکار؛ کیا ڈونلڈ ٹرمپ اور تہران کے مابین واقعی کوئی خفیہ معاہدہ ہونے والا ہے؟
پاسدارانِ انقلاب کا کڑا جواب: "یہ محض ذاتی تشہیر ہے"
ایرانی فوج اور طاقتور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے امریکی صدر کے اس بیان کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز کسی بھی معاہدے پر دستخط کا دور دور تک کوئی امکان موجود نہیں۔ تہران کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 14 جون کی تاریخ کا ذکر کرنا محض ایک علامتی سیاسی پیغام ہے، جس کا مقصد عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنا اور اپنی ذاتی تشہیر کرنا ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ اس قسم کے غیر سنجیدہ دعوے پیچیدہ اور حساس سفارتی عمل کو فائدے کے بجائے شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
تبصرہ و تجزیہ: آبنائے ہرمز کی بندش اور ٹرمپ کارڈ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی غیر روایتی اور "آرٹ آف دی ڈیل" (Art of the Deal) والی خارجہ پالیسی کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ختم ہو جائے گی اور امریکہ ایران کے ساتھ مستقبل میں تعاون بڑھائے گا، ان کی اسی حکمتِ عملی کا حصہ لگتا ہے۔ لیکن تہران اس بار کسی جلدی میں دکھائی نہیں دیتا۔ ایرانی سفارت کاروں کا یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ چردہ مذاکرات اگر چل بھی رہے ہیں، تو بھی ان میں ابھی بہت سی خلیج باقی ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہے۔
سابقہ ریکارڈ اور پسِ منظر (Evergreen Context):
امریکہ اور ایران کے تعلقات کو سمجھنے کے لیے ماضی کے ان اہم ترین موڑ پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو اس اسٹوری کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں:
- 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA): باراک اوباما کے دور میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت ایران پر سے پابندیاں ہٹائی گئی تھیں۔
- 2018 میں ٹرمپ کا بڑا فیصلہ: اپنے پہلے دورِ صدارت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دے کر یکطرفہ طور پر امریکہ کو اس سے الگ کر لیا تھا اور ایران پر سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
- قاسم سلیمانی کا واقعہ (2020): جنوری 2020 میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔
- آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی اہمیت: یہ دنیا کی وہ سب سے اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے پوری دنیا کے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ ایران اکثر امریکہ کو دباؤ میں لانے کے لیے اسے بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔
امریکی صدر کے دعوے اور تہران کی حالیہ تردید کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ اونٹ ابھی کسی ایک کروٹ بیٹھنے والا نہیں۔ کیا یہ ٹرمپ کا کوئی نیا سیاسی جوا ہے یا ایران واقعی دباؤ میں آکر کوئی بڑا فیصلہ کرنے والا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Comments
Post a Comment