کراچی کے سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول (فرسٹ ایئر) میں داخلے کے خواہشمند سوا لاکھ کے قریب طلبہ شدید پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ محکمہ تعلیم کی نااہلی کے باعث تاحال آن لائن داخلہ پورٹل فعال نہیں کیا جا سکا۔ سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی (SECCAP) کے تحت داخلوں کا آغاز یکم جون سے ہونا تھا، تاہم مقررہ تاریخ گزر جانے کے باوجود داخلہ پورٹل بند پڑا ہے جس کی وجہ سے طلبہ اور ان کے والدین شدید ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔
پبلک ایڈورٹائزمنٹ کے باوجود پورٹل کریش
ذرائع کے مطابق محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ کی جانب سے 23 مئی کو قومی اخبارات میں داخلوں کے حوالے سے باضابطہ اشتہارات جاری کیے گئے تھے۔ شیڈول کے مطابق میٹرک کے نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے آن لائن رجسٹریشن شروع ہونی تھی، اور داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔ لیکن جیسے ہی طلبہ نے مینوئل کے مطابق آفیشل پورٹل (www.seccap.dgcs.gos.pk) پر لاگ ان کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ویب سائٹ کا لنک ہی کام نہیں کر رہا اور پورٹل مکمل طور پر بند ہے۔
کراچی کے سرکاری کالجوں میں ہر سال پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس، کامرس، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس سمیت 6 مختلف فیکلٹیز میں بڑے پیمانے پر داخلے دیے جاتے ہیں، اور پورٹل کی اس خرابی نے داخلہ کے پورے عمل کو روک دیا ہے۔
محکمہ کالج ایجوکیشن کا مؤقف اور نئی تبدیلیاں
اس سنگین تکنیکی خرابی اور تاخیر کے حوالے سے جب ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ پورٹل تکنیکی وجوہات کی بنا پر بند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کی ٹیکنیکل ٹیم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور قوی امید ہے کہ پورٹل کو جلد ہی مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا جس کے بعد طلبہ آسانی سے آن لائن اپلائی کر سکیں گے۔
ڈی جی کالجز نے اس بار داخلہ پالیسی میں ایک اہم اور مثبت تبدیلی کا اعلان بھی کیا ہے:
- معذور طلبہ کے لیے خصوصی کوٹہ: اس سال تمام سرکاری کالجوں میں پہلی بار "ڈیس ایبل" (معذور) طلبہ کے لیے ایک مخصوص کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
- قریبی تعلیمی اداروں میں رسائی: اس کوٹے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ خصوصی معذوری رکھنے والے طلبہ اپنے گھروں کے قرب و جوار میں واقع کالجوں میں آسانی سے داخلہ حاصل کر سکیں اور انہیں طویل مسافت طے نہ کرنی پڑے۔
طلبہ اور والدین نے صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ پورٹل کو فوری فعال کیا جائے تاکہ قیمتی تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ سکے۔

Comments
Post a Comment