بوسنیا کے معاملے پر واشنگٹن اور یورپ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

The US Embassy in Sarajevo and the Peace Implementation Council emblem representing the diplomatic dispute over Bosnia
بوسنیا اور ہرزیگووینا کے مستقبل پر امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ہائی ریپریزنٹیٹو (اعلیٰ انتظامیہ) کے عہدے پر تقرری کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ بین الاقوامی امن مشن میں اپنے کردار پر "دوبارہ غور" کر سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی ممالک نے اس اہم ترین عہدے کے لیے امریکہ کے پسندیدہ امیدوار کی حمایت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

نئے ہائی ریپریزنٹیٹو کی تقرری پر ڈیڈ لاک

سارایوو میں پیس امپلیمنٹیشن کونسل (PIC) کے حالیہ اجلاس کے دوران واشنگٹن نے اطالوی سفارت کار انتونیو زنارڈی لانڈی کی حمایت کی، جبکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ریاستوں نے فرانس کے ایلچی رینے ٹروکاز کے حق میں ووٹ دیا۔ یورپی ممالک کے اس اتحاد اور امریکی امیدوار کی مخالفت نے ٹرمپ انتظامیہ کو شدید مایوس کیا ہے، جس کا اظہار سارایوو میں امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری ایک سخت بیان میں بھی کیا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے یورپی ممالک کو "غیر فیصلہ کن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی تقسیم کی وجہ سے کونسل نیا ہائی ریپریزنٹیٹو منتخب کرنے میں ناکام رہی۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ یہ صورتحال امریکہ کو بوسنیا میں اپنی بین الاقوامی موجودگی اور کردار پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ ڈائٹن امن معاہدے کو نافذ کرنے والے ہائی ریپریزنٹیٹو کے اختیارات کو کمزور کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈال رہی ہے، جس نے 1995 میں ایک لاکھ جانیں لینے والی جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔

سیاسی اور کاروباری مفادات کے الزامات

یورپی حکام اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے اس سخت موقف اور مقاصد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس تنازعے کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

  • پابندیوں کا خاتمہ: ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال واشنگٹن میں کروڑوں ڈالرز کی مبینہ لابنگ مہم کے بعد، روس نواز سرب علیحدگی پسند رہنما میلوراڈ ڈوڈک پر عائد پابندیاں ختم کر دی تھیں۔
  • کاروباری روابط: صدر ٹرمپ کے قریبی رفقاء اور خاندان کے ارکان پر بوسنیا میں کاروباری مفادات حاصل کرنے کا الزام ہے۔ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ڈوڈک کے بیٹے کی دعوت پر خطے کا دورہ بھی کیا تھا۔
  • یورپی موقف: بعض یورپی حکام کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ خطے میں اپنا کردار کم کرتا ہے تو اس سے یورپ کو اپنے فیصلے آزادانہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، امریکہ نے یورپی ممالک کے اثر و رسوخ کا غلط اندازہ لگایا، اور یہ تنازع اب محض ایک سفارتی تقرری نہیں بلکہ خطے میں نظریاتی اور تجارتی مفادات کی جنگ بن چکا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

US Threatens to Reconsider Bosnia Role After Deepening Rift with European Allies


SARAJEVO: A significant diplomatic rift has emerged between the United States and European nations over the selection of the next High Representative for Bosnia and Herzegovina. Following a Peace Implementation Council (PIC) meeting where European states blocked the US-backed Italian diplomat Antonio Zanardi Landi in favor of France’s René Troccaz, Washington threatened to "reconsider" its ongoing role in the region's international presence.

Strategic and Business Concerns

The Trump administration's push to dilute the High Representative's enforcement powers under the 1995 Dayton Accords has raised eyebrows in Europe. Critics and analysts suggest the current US policy in the Western Balkans may be influenced by emerging business interests and lobbying efforts, pointing toward the lifting of sanctions on Bosnian Serb secessionist leader Milorad Dodik and recent regional visits by Trump associates.

Comments