نئے ہائی ریپریزنٹیٹو کی تقرری پر ڈیڈ لاک
سارایوو میں پیس امپلیمنٹیشن کونسل (PIC) کے حالیہ اجلاس کے دوران واشنگٹن نے اطالوی سفارت کار انتونیو زنارڈی لانڈی کی حمایت کی، جبکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ریاستوں نے فرانس کے ایلچی رینے ٹروکاز کے حق میں ووٹ دیا۔ یورپی ممالک کے اس اتحاد اور امریکی امیدوار کی مخالفت نے ٹرمپ انتظامیہ کو شدید مایوس کیا ہے، جس کا اظہار سارایوو میں امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری ایک سخت بیان میں بھی کیا ہے۔
امریکی سفارت خانے نے یورپی ممالک کو "غیر فیصلہ کن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی تقسیم کی وجہ سے کونسل نیا ہائی ریپریزنٹیٹو منتخب کرنے میں ناکام رہی۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ یہ صورتحال امریکہ کو بوسنیا میں اپنی بین الاقوامی موجودگی اور کردار پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ ڈائٹن امن معاہدے کو نافذ کرنے والے ہائی ریپریزنٹیٹو کے اختیارات کو کمزور کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈال رہی ہے، جس نے 1995 میں ایک لاکھ جانیں لینے والی جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔
سیاسی اور کاروباری مفادات کے الزامات
یورپی حکام اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے اس سخت موقف اور مقاصد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس تنازعے کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
- پابندیوں کا خاتمہ: ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال واشنگٹن میں کروڑوں ڈالرز کی مبینہ لابنگ مہم کے بعد، روس نواز سرب علیحدگی پسند رہنما میلوراڈ ڈوڈک پر عائد پابندیاں ختم کر دی تھیں۔
- کاروباری روابط: صدر ٹرمپ کے قریبی رفقاء اور خاندان کے ارکان پر بوسنیا میں کاروباری مفادات حاصل کرنے کا الزام ہے۔ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ڈوڈک کے بیٹے کی دعوت پر خطے کا دورہ بھی کیا تھا۔
- یورپی موقف: بعض یورپی حکام کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ خطے میں اپنا کردار کم کرتا ہے تو اس سے یورپ کو اپنے فیصلے آزادانہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، امریکہ نے یورپی ممالک کے اثر و رسوخ کا غلط اندازہ لگایا، اور یہ تنازع اب محض ایک سفارتی تقرری نہیں بلکہ خطے میں نظریاتی اور تجارتی مفادات کی جنگ بن چکا ہے۔

Comments
Post a Comment