"اہم یہ نہیں کہ کتنی ویپنگ کی، بلکہ ذائقہ اور برانڈ کون سا ہے"
محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ای سگریٹ کا باقاعدگی سے استعمال انسانی خلیات میں موجود ہزاروں جینز میں ایسی تبدیلیاں متحرک کرتا ہے جو مختلف جان لیوا بیماریوں کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ تحقیق میں سب سے حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ جینز میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات پر منحصر نہیں کہ کوئی شخص کتنی زیادہ ویپنگ کرتا ہے، بلکہ سب سے اہم یہ ہے کہ وہ کس برانڈ کا ای سیگریٹ اور کون سا فلیور (ذائقہ) استعمال کر رہا ہے۔
مارکیٹ میں اس وقت پھلوں، پھولوں اور میٹھے ذائقوں سمیت سینکڑوں برانڈز موجود ہیں، جنہیں سگریٹ نوشی چھوڑنے کے ایک محفوظ طریقے کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ چونکہ ویپنگ ایک نسبتاً نئی ایجاد ہے، اس لیے انسانی صحت پر اس کے طویل المدتی اثرات اب تک پوری طرح واضح نہیں تھے، لیکن یہ نئی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اس میں موجود کیمیکلز براہِ راست انسانی ڈی این اے اور جینز کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کون سا فلیور جینز کو کتنا متاثر کرتا ہے؟
اس نئی سائنسی تحقیق میں ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کرنے والے دونوں افراد کو شامل کیا گیا تھا، جس کے دوران مختلف ذائقوں کے اثرات کے حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے:
- پھلوں کے ذائقے (Fruit Flavors): تحقیق کے مطابق، پھلوں کے ذائقے والے ویپس 31 فیصد متاثرہ جینز میں تبدیلیاں لانے کے ذمہ دار پائے گئے۔
- مکسڈ فلیورز (Multiple Flavors): ایک سے زائد یا متعدد ذائقوں کا بیک وقت استعمال سب سے خطرناک ثابت ہوا، جو 64.3 فیصد جینز کی تبدیلیوں سے منسلک تھا۔
- میٹھے ذائقے اور پودینہ: میٹھے فلیورز نے 2.9 فیصد اور پودینہ یا مینتھول (Menthol) کے ذائقوں نے 0.9 فیصد جینز کو متاثر کیا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ ای سگریٹ کسی بھی طرح روایتی تمباکو نوشی کا محفوظ متبادل نہیں ہے اور اس کا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment