میڈیا انڈسٹری سے وابستگی اور انسان دوست شخصیت
ارسلانہ محمد شاہ خود بھی میڈیا انڈسٹری کا ایک معتبر حصہ تھیں اور انہوں نے مختلف نجی ٹی وی چینلز میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر اپنے فرائض سرانجام دیے۔ تاہم، ان کے اہل خانہ کے مطابق ان کی اصل پہچان ان کا کام نہیں بلکہ ان کا نرم دل اور انسان دوست ہونا تھا۔ وہ شوٹنگ سیٹس پر کام کرنے والے ہر چھوٹے بڑے ملازم کے ساتھ انتہائی عزت اور محبت سے پیش آتی تھیں اور ہمیشہ ضرورت مندوں کی خاموشی سے مدد کرتی تھیں۔
اپنی بہن کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شفیع محمد شاہ کی دوسری صاحبزادی نے لکھا کہ "ہم نے صرف ایک بہن نہیں کھوئی، بلکہ انسانی روپ میں ایک فرشتہ کھو دیا ہے۔" انہوں نے بتایا کہ ارسلانہ کبھی بھی اپنی نیکیوں کا صلہ یا تعریف نہیں چاہتی تھیں۔ ارسلانہ محمد شاہ اپنے پیچھے ایک چھوٹی بیٹی "ام البنین" کو سوگوار چھوڑ گئی ہیں، جو ان کے مطابق ہمیشہ اپنی والدہ کی محبت اور روشنی کا عکس بن کر رہے گی۔
شفیع محمد شاہ کا فنی سفر
واضح رہے کہ ارسلانہ محمد شاہ کے والد شفیع محمد شاہ پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کی تاریخ کے ان چند عظیم ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کے بغیر پاکستانی ڈرامے کی تاریخ ادھوری ہے۔ ان کی یادگار فنی خدمات درج ذیل ہیں:
- شاندار ڈرامے: انہوں نے 'آنچ'، 'چاند گرہن'، 'جنگل'، 'تیسرا کنارہ'، 'آخری چٹان'، 'بند گلاب'، 'تپش' اور 'زینت' جیسے لازوال ڈراموں میں یادگار کردار ادا کیے۔
- منفرد انداز: ان کی جاندار آواز اور مخصوص اندازِ بیاں نے انہیں پاکستان کے مقبول ترین اداکاروں کی صف میں شامل کیا۔
- انتقال: شفیع محمد شاہ 17 نومبر 2007ء کو 58 برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے، اور اب ان کی بیٹی بھی خالقِ حقیقی سے جا ملی ہیں۔
ڈیلی حلیف کی پوری ٹیم ارسلانہ محمد شاہ کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا گو ہے۔

Comments
Post a Comment