پاکستان اور قطر کا کردار: پردے کے پیچھے کی کہانی
اس پوری سفارتی دوڑ کا سب سے اہم اور ایورگرین پہلو یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کو ایک میز پر لانے کے لیے پاکستان اور قطر جیسے ثالث ممالک پردے کے پیچھے ایک کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حالیہ مفاہمتی معاہدے کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا ہے، تاکہ خطے میں کشیدگی کو مستقل طور پر کم کیا جا سکے۔ امریکی نائب صدر کی خود اس عمل میں براہ راست شرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے بحران سے نکلنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: کیا واشنگٹن اور تہران میں برف پگھل رہی ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد، جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کا ذکر کیا تھا اور ایرانی فوج نے اسے مسترد کر دیا تھا، جے ڈی وینس کا یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ پسِ چردہ مذاکرات کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ لبنان کی صورتحال اور ایران کا جوہری پروگرام دو ایسے بارود کے ڈھیر ہیں جن پر پورا مشرقِ وسطیٰ بیٹھا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں، تو اس سے نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات معمول پر آئیں گے بلکہ عالمی معیشت اور بحری گزرگاہوں (جیسے آبنائے ہرمز) پر چڑھا ہوا جنگ کا بخار بھی اتر جائے گا۔
امریکہ ایران سفارت کاری کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
ماضی میں جب بھی دونوں ممالک کے مابین سوئٹزرلینڈ یا عمان میں خفیہ یا اعلانیہ مذاکرات ہوئے، ان کے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوئے:
- پاکستان کا تاریخی کردار: پاکستان ماضی میں بھی برادر اسلامی ملک ایران اور امریکہ کے مابین تلخیاں کم کرنے کے لیے کئی بار سفارتی چینلز فراہم کر چکا ہے تاکہ مسلم امہ اور خطے کو جنگ سے بچایا جا سکے۔
- سوئٹزرلینڈ کا کردار بطور سفارتی چینل: چونکہ 1980 سے امریکہ اور ایران کے براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اس لیے تہران میں امریکی مفادات کا تحفظ سوئس سفارت خانہ ہی کرتا ہے اور سوئٹزرلینڈ ہمیشہ ان دونوں کے مابین مذاکرات کا نیوٹرل گراؤنڈ رہا ہے۔
- لبنان اور علاقائی پراکسیز کا تذکرہ: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا معاملہ ہمیشہ ایران کی حامی تنظیموں اور اسرائیل کے مابین سیز فائر سے جڑا ہوتا ہے، جس میں امریکی مداخلت ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اس وقت سوئٹزرلینڈ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اگر جے ڈی وینس تہران کے نمائندوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔

Comments
Post a Comment