"خوش قسمتی سے ایٹمی تابکاری کے پھیلاؤ کا خطرہ نہیں"
یوکرین کی سرکاری نیوکلیئر آپریٹر کمپنی "انرجواٹم" (Energoatom) نے تصدیق کی ہے کہ جس وقت یہ حملہ ہوا، عمارت کے اس حصے میں نیوکلیئر کنٹینرز موجود نہیں تھے۔ حملے کے فوراً بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی بھی ملازم کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) اور یوکرینی حکام دونوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ علاقے میں ایٹمی تابکاری (Radiation) کی سطح فی الحال معمول کے مطابق ہے اور کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
یہ حساس ترین گودام 1986 کے دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کا شکار ہونے والے چرنوبل پلانٹ سے محض 9 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یوکرین کے وزیرِ خارجہ اینڈری سیبیہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب روسی افواج نے یوکرین کی جوہری تنصیبات کو خطرے میں ڈالا ہو۔ انہوں نے روس کے اس رویے کو "نیوکلیئر بلیک میلنگ" قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
لندن کانفرنس اور یوکرین روس فضائی حملوں میں تیزی
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے اہم ترین مقامات پر دور تک مار کرنے والے ڈرون حملوں میں شدید تیزی آ چکی ہے۔ اس صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- لندن سربراہی کانفرنس: یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اس جنگی صورتحال پر برطانوی، فرانسیسی اور جرمن وزرائے اعظم اور صدور سے لندن میں اہم ملاقات کر رہے ہیں۔
- یوکرین کا جوابی حملہ: روس کے اس حملے سے ٹھیک ایک دن پہلے یوکرین نے بھی روس کے تاریخی بحری شہر کرونسٹادٹ کو طویل فاصلے کے ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا۔
- روس کی خاموشی: روسی وزارتِ دفاع نے چرنوبل حملے پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 500 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
چرنوبل کی تنصیبات پر ہونے والا یہ حملہ پوری دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ یوکرین روس جنگ کسی بھی وقت ایک بڑے عالمی ایٹمی حادثے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment