یوکرین میں ایٹمی خطرہ؛ چرنوبل کے قریب استعمال شدہ نیوکلیئر فیول کے گودام پر روسی ڈرون حملہ

The centralized spent nuclear fuel storage facility near Chornobyl damaged after a Russian drone strike
یوکرین کے تاریخی اور حساس ایٹمی پلانٹ "چرنوبل" کے قریب ایک بار پھر بڑا ایٹمی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق، اتوار کی علی الصبح تقریباً 2 بجے روس کے ایک "شاہد ڈرون" نے استعمال شدہ نیوکلیئر فیول (Spent Nuclear Fuel) کو ذخیرہ کرنے والی عمارت کے استقبالیہ حصے کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو انتہائی گھناؤنا اور سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔

"خوش قسمتی سے ایٹمی تابکاری کے پھیلاؤ کا خطرہ نہیں"

یوکرین کی سرکاری نیوکلیئر آپریٹر کمپنی "انرجواٹم" (Energoatom) نے تصدیق کی ہے کہ جس وقت یہ حملہ ہوا، عمارت کے اس حصے میں نیوکلیئر کنٹینرز موجود نہیں تھے۔ حملے کے فوراً بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی بھی ملازم کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) اور یوکرینی حکام دونوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ علاقے میں ایٹمی تابکاری (Radiation) کی سطح فی الحال معمول کے مطابق ہے اور کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔

یہ حساس ترین گودام 1986 کے دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کا شکار ہونے والے چرنوبل پلانٹ سے محض 9 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یوکرین کے وزیرِ خارجہ اینڈری سیبیہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب روسی افواج نے یوکرین کی جوہری تنصیبات کو خطرے میں ڈالا ہو۔ انہوں نے روس کے اس رویے کو "نیوکلیئر بلیک میلنگ" قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لندن کانفرنس اور یوکرین روس فضائی حملوں میں تیزی

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے اہم ترین مقامات پر دور تک مار کرنے والے ڈرون حملوں میں شدید تیزی آ چکی ہے۔ اس صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • لندن سربراہی کانفرنس: یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اس جنگی صورتحال پر برطانوی، فرانسیسی اور جرمن وزرائے اعظم اور صدور سے لندن میں اہم ملاقات کر رہے ہیں۔
  • یوکرین کا جوابی حملہ: روس کے اس حملے سے ٹھیک ایک دن پہلے یوکرین نے بھی روس کے تاریخی بحری شہر کرونسٹادٹ کو طویل فاصلے کے ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا۔
  • روس کی خاموشی: روسی وزارتِ دفاع نے چرنوبل حملے پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 500 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔

چرنوبل کی تنصیبات پر ہونے والا یہ حملہ پوری دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ یوکرین روس جنگ کسی بھی وقت ایک بڑے عالمی ایٹمی حادثے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Russian Drone Strikes Spent Nuclear Fuel Storage Facility Near Chornobyl


CHORNOBYL: A Russian Shahed drone has significantly damaged a reception building used for storing spent nuclear fuel close to the disused Chornobyl nuclear power plant. Ukrainian President Volodymyr Zelenskyy condemned the 2 a.m. strike as a deliberate and "extremely vile" attack on critical infrastructure.

No Radiation Leak Reported

According to the state nuclear operator Energoatom, the affected structure was empty of nuclear containers at the time of the strike. A small fire broke out but was quickly extinguished, and no casualties were reported. Both Ukrainian officials and the International Atomic Energy Agency (IAEA) confirmed that radiation safety levels at the site remain within normal limits.

Escalating Long-Range Aerial War

The attack comes amid intensifying long-range aerial strikes between Kyiv and Moscow. Ukraine's Foreign Minister Andrii Sybiha accused Russia of systemic "nuclear blackmail." The strike took place just before President Zelenskyy's scheduled summit in London to discuss the conflict with key European leaders.

Comments