بڑی کمپنیوں کی جانب سے معاوضہ اسکیم عدالت میں چیلنج
ایف سی اے (FCA) کو اس وقت چار بڑے اداروں کی طرف سے قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں مشہور کار کمپنیز کے فنانسنگ ادارے جیسے ووکس ویگن فنانشل سروسز، مرسڈیز بینز فنانشل سروسز، اور کریڈٹ ایگریکول آٹو فنانس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین کی مہم چلانے والے گروپ 'کنزیومر وائس' نے بھی ایک لا فرم کے ساتھ مل کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، جن کا مؤقف ہے کہ ایف سی اے کی اسکیم کے تحت ڈرائیوروں کو ان کا پورا حق نہیں دیا جا رہا۔
یاد رہے کہ یہ اسکینڈل 2007 سے 2024 کے درمیان کاروں کے لیے قرضے لینے والے ان ڈرائیوروں سے متعلق ہے جن سے قرض دہندگان اور کار ڈیلرز کے مابین خفیہ کمیشن کی وجہ سے اضافی چارجز وصول کیے گئے تھے۔ ریگولیٹر کو امید تھی کہ 9.1 ارب پاؤنڈز کے اس معاوضے کے پروگرام سے اس اسکینڈل کا خاتمہ ہو جائے گا اور رواں موسمِ گرما سے ادائیگیاں شروع ہو جائیں گی، لیکن اب معاملہ اپر ٹربیونل (عدالت) میں پہنچنے سے یہ سارا عمل کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
معاوضے میں تاخیر اور بینکوں پر اربوں کا اضافی بوجھ
برطانوی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے ایف سی اے کے حکام نے صورتحال کی سنگینی پر روشنی ڈالی:
- 2027 تک تاخیر کا امکان: ایف سی اے کی ڈپٹی چیف ایگزیکٹو سارہ پرچرڈ کے مطابق اگر جج اسکیم کی حمایت بھی کر دیں، تب بھی ادائیگیاں 2027 تک تاخیر کا شکار ہو جائیں گی۔
- 6 ارب پاؤنڈ کا نقصان: ادارے کے چیف ایگزیکٹو نکھل راٹھی نے واضح کیا کہ اگر موجودہ اسکیم ختم کر کے انفرادی شکایات کے ذریعے معاملہ حل کیا گیا تو بینکوں کو 6 ارب پاؤنڈز اضافی بھرنے پڑیں گے اور تین سال مزید لگیں گے۔
- بڑے بینک زد میں: اس تاخیر اور اضافی اخراجات سے لائیڈز بینکنگ گروپ، سینٹینڈر یو کے اور بارکلیز جیسے بڑے برطانوی بینک براہِ راست متاثر ہوں گے۔
خود ریگولیٹر (FCA) کو بھی اس قانونی جنگ کی وجہ سے تقریباً 27 لاکھ پاؤنڈز کے اضافی اخراجات کا سامنا ہے، جس کے باعث اسے اپنے اندرونی وسائل دیگر اہم کاموں سے ہٹا کر اس کیس پر لگانے پڑ رہے ہیں۔

Comments
Post a Comment