آبنائے ہرمز کا کھلنا اور معیشت کو بڑا ریلیف
معاہدے کے تحت سب سے بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ایران کی جانب سے "آبنائے ہرمز" کی ناکہ بندی ختم کی جائے گی، جبکہ جواب میں امریکہ بھی ایرانی بندرگاہوں کا معاشی بائیکاٹ اور پابندیاں ختم کر دے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ڈیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن و سلامتی لائے گا۔" اس فیصلے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہوں گی جس سے امریکی صدر پر معاشی دباؤ کم ہوگا، اور دوسری طرف تباہ حالی کا شکار ایرانی معیشت کو بھی ایک نئی زندگی مل سکے گی۔
لبنان کا انسانی بحران اور اسرائیل کا جارحانہ رویہ
پاکستانی وزیرِ اعظم کے مطابق اس معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ یہ ایک ایسا انسانی پہلو ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ لبنان میں حالیہ دو جنگ بندیوں کی ناکامی کے بعد عوام شدید مصائب کا شکار ہیں۔ لیکن اصل چیلنج اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا رویہ ہے، جنہوں نے فی الحال حزب اللہ کے خلاف بیروت میں بمباری روکنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران صرف اس لیے جوابی میزائل داغنے سے پیچھے ہٹ گیا تاکہ اس امن معاہدے کو خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔
سابقہ ریکارڈ اور پاکستان کا ثالثی کردار (Evergreen Context):
اس تاریخی معاہدے کے پسِ منظر اور مستقبل کے اثرات کو سمجھنے کے لیے درج ذیل حقائق کو جاننا ضروری ہے:
- پاکستان کا تاریخی کردار: یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں ثالث کا کردار ادا کیا ہو۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی کم کرنے اور مسلم امہ کو یکجا کرنے میں ہمیشہ ایک اہم سفارتی پُل کا کام کیا ہے۔
- جوہری پروگرام کی ضمانت: امریکی نقطۂ نظر سے اس ڈیل کا سب سے اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے کیسے روکا جائے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق معاہدے میں ایک خفیہ مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس پر اصل دستخط کی تقریب کے بعد مزید کٹھن مذاکرات ہوں گے۔
- خلیجی ممالک کو ریلیف: متحدہ عرب امارات (UAE)، قطر اور سعودی عرب جیسے عرب پڑوسیوں کے لیے یہ معاہدہ ایک بڑی راحت ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کی جنگ کی صورت میں ان کا پورا معاشی اور سیاحتی ماڈل خطرے میں پڑ جاتا۔
تبصرہ و تجزیہ: اگرچہ معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب میں ابھی چند دن باقی ہیں اور راستے میں اسرائیل جیسے کئی کانٹے موجود ہیں، لیکن اس ڈیل نے دنیا کو ایک بڑی عالمی جنگ کے دہانے سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ امن مستقل ثابت ہوتا ہے یا یہ صرف طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے؟

Comments
Post a Comment