ٹرمپ کا سخت ردِعمل: "یہ حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا"
اسرائیل کے اس اچانک اور جارحانہ اقدام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ بیروت پر یہ حملہ بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا اور تمام فریقین کو فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگرچہ ٹرمپ نے روایتی طور پر اسرائیل کے دفاع کا حق تسلیم کیا، لیکن انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حزب اللہ کی جانب سے کی گئی پچھلی کارروائی انتہائی محدود نوعیت کی تھی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، اس لیے اسرائیل کا یہ جوابی حملہ غیر ضروری تھا۔ امریکی صدر نے زور دیا کہ اس حملے سے امن کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک بڑا معاہدہ بالکل قریب ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: اسرائیل کا اصل ہدف اور ایران کی شرط
سفارتی حلقوں میں یہ بحث گرم ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا دفتر اگرچہ اسے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ قرار دے رہا ہے، لیکن اس کی اصل ٹائمنگ بہت کچھ بیاں کرتی ہے۔ ایران نے امریکہ کے سامنے معاہدے کے لیے جو سب سے بڑی شرط رکھی تھی، وہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا مستقل خاتمہ تھا۔ اسرائیل نے ٹھیک اسی وقت بیروت پر بمباری کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا جو اس کی عسکری من مانیوں کو لگام ڈالے۔
اسرائیل-لبنان تنازع کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):
اس بیروت حملے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان تلخ حقائق کو جاننا ضروری ہے:
- ضاحیہ (Dahiyeh) کا علاقہ: بیروت کا یہ جنوبی مضافاتی علاقہ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔ سنہ 2006 کی اسرائیل-لبنان جنگ کے دوران بھی اسرائیل نے اسی علاقے کو اپنی بدترین بمباری کا نشانہ بنا کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا، جسے تاریخ میں 'ضاحیہ ڈاکٹرائن' کہا جاتا ہے۔
- سنہ 2006 کی جنگ کا ریکارڈ: اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 34 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 1200 سے زائد لبنانی شہری شہید ہوئے تھے، اور یہ خطہ طویل عرصے تک جنگ کی آگ میں جلتا رہا۔
- موجودہ کشیدگی کی وجہ: غزہ جنگ کے بعد سے اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ اور راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری تھا، جس نے اب ایک باقاعدہ علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔
امریکی دباؤ اور ٹرمپ کی ملامت کے بعد اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔ کیا نیتن یاہو حکومت امریکہ اور ایران کے امن عمل کو مکمل طور پر ناکام بنا دے گی، یا عالمی دباؤ کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جائے گی؟ یہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔

Comments
Post a Comment