امیدوں پر بمباری! کیا اسرائیل نے ایران امریکہ امن معاہدہ سبوتاژ کر دیا؟

Smoke rising from buildings in southern Beirut following Israeli airstrikes amid US-Iran peace talks
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر آ کھڑا ہوا ہے۔ ایک ایسے نازک وقت میں جب واشنگٹن اور تہران کے مابین خطے میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک تاریخی امن معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، اسرائیل نے لبنانی دارالحکومت بیروت پر خوفناک فضائی حملے کر دیے ہیں۔ ان حملوں کو عالمی سطح پر امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کھلی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اتوار کے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے 'ضاحیہ' میں ہونے والی اس بمباری کے نتیجے میں کم از کم 3 معصوم شہری جاں بحق اور 7 زخمی ہو چکے ہیں۔

ٹرمپ کا سخت ردِعمل: "یہ حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا"

اسرائیل کے اس اچانک اور جارحانہ اقدام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ بیروت پر یہ حملہ بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا اور تمام فریقین کو فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگرچہ ٹرمپ نے روایتی طور پر اسرائیل کے دفاع کا حق تسلیم کیا، لیکن انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حزب اللہ کی جانب سے کی گئی پچھلی کارروائی انتہائی محدود نوعیت کی تھی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، اس لیے اسرائیل کا یہ جوابی حملہ غیر ضروری تھا۔ امریکی صدر نے زور دیا کہ اس حملے سے امن کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک بڑا معاہدہ بالکل قریب ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: اسرائیل کا اصل ہدف اور ایران کی شرط

سفارتی حلقوں میں یہ بحث گرم ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا دفتر اگرچہ اسے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ قرار دے رہا ہے، لیکن اس کی اصل ٹائمنگ بہت کچھ بیاں کرتی ہے۔ ایران نے امریکہ کے سامنے معاہدے کے لیے جو سب سے بڑی شرط رکھی تھی، وہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا مستقل خاتمہ تھا۔ اسرائیل نے ٹھیک اسی وقت بیروت پر بمباری کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا جو اس کی عسکری من مانیوں کو لگام ڈالے۔

اسرائیل-لبنان تنازع کا سابقہ ریکارڈ (Evergreen Context):

اس بیروت حملے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان تلخ حقائق کو جاننا ضروری ہے:

  • ضاحیہ (Dahiyeh) کا علاقہ: بیروت کا یہ جنوبی مضافاتی علاقہ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔ سنہ 2006 کی اسرائیل-لبنان جنگ کے دوران بھی اسرائیل نے اسی علاقے کو اپنی بدترین بمباری کا نشانہ بنا کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا، جسے تاریخ میں 'ضاحیہ ڈاکٹرائن' کہا جاتا ہے۔
  • سنہ 2006 کی جنگ کا ریکارڈ: اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 34 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 1200 سے زائد لبنانی شہری شہید ہوئے تھے، اور یہ خطہ طویل عرصے تک جنگ کی آگ میں جلتا رہا۔
  • موجودہ کشیدگی کی وجہ: غزہ جنگ کے بعد سے اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ اور راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری تھا، جس نے اب ایک باقاعدہ علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔

امریکی دباؤ اور ٹرمپ کی ملامت کے بعد اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔ کیا نیتن یاہو حکومت امریکہ اور ایران کے امن عمل کو مکمل طور پر ناکام بنا دے گی، یا عالمی دباؤ کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جائے گی؟ یہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔


⬇️ Click to Read this Middle East Story in English

Sabotaging Peace? Israeli Airstrikes Hit Beirut as US-Iran Deal Approaches


BEIRUT: At least three people were killed and seven others injured in fresh Israeli airstrikes targeting the Dahiyeh district in southern Beirut on Sunday. The timing of the attack has sparked intense diplomatic outrage, as it directly coincides with ongoing US-Iran negotiations aimed at finalizing a historic peace treaty to end regional hostilities.

Donald Trump Criticizes Israeli Action

US President Donald Trump strongly reacted to the development, stating on social media that the attack "should not have happened" and urging all parties to exercise restraint. While acknowledging Israel's right to self-defense, Trump pointed out that the preceding provocations were minimal, and stressed that this strike must not derail the imminent peace framework, which remains crucial for long-term stability in Lebanon and the wider Middle East.

Comments