مقامی صرافہ مارکیٹ کے نئے تازہ ترین نرخ اور چاندی کا الٹ پھیر
عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 41 ڈالر گرنے کے بعد 4 ہزار 24 ڈالر کی سطح پر آ گیا، جس کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا۔ صرافہ حکام کے مطابق منگل کو فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 100 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 24 balance ہزار 836 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح، فی 10 گرام سونا بھی 3 ہزار 515 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 64 ہزار 228 روپے کی سطح پر بند ہوا ہے۔
سونے کے برعکس، چاندی کی مارکیٹ نے ایک بالکل الٹا ٹرینڈ دکھایا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 25 سینٹس کے اضافے سے 58 ڈالر 70 سینٹس پر پہنچ گئی، جس کے باعث مقامی مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی 25 روپے مہنگی ہو کر 6 ہزار 349 روپے اور فی 10 گرام چاندی 22 روپے کے اضافے سے 5 ہزار 443 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مارکیٹ میں اس الٹ پھیر نے روایتی خریداروں کو تذبذب کا شکار کر دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: عالمی مندی، ڈالرز کا دباؤ اور محفوظ سرمایہ کاری کا رخ
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ ریکارڈ گراوٹ بین الاقوامی معاشی پالیسیوں، امریکی ڈالر کی مضبوطی اور مانیٹری بالادستی کے بدلتے ہوئے رجحانات کا نتیجہ ہے۔ عام طور پر جب ڈالر انڈیکس مضبوط ہوتا ہے یا بینکوں کی جانب سے شرحِ سود (Interest Rates) مستحکم رکھی جاتی ہے، تو سرمایہ کار سونے کی محفوظ پناہ گاہ سے اپنا سرمایہ نکال کر متبادل بانڈز اور کرنسی مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں۔ چاندی میں آنے والا معمولی اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صنعتی شعبے میں چاندی کی مانگ اب بھی برقرار ہے، تاہم سونے کا یہ بڑا کریش پاکستان جیسے ملک میں مہنگائی کے مارے عوام اور شادی بیاہ کے سیزن کے خریداروں کے لیے عارضی سکھ کا سانس ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔
صرافہ مارکیٹ کے تاریخی اتار چڑھاؤ کا پسِ منظر:
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کے طویل مدتی رجحانات اور ماضی کے حقائق پر ایک نظر:
- روایتی سیونگ ٹرینڈ (Safe Haven Asset): پاکستانی معاشرے میں سونا ہمیشہ سے افراطِ زر (Inflation) کے خلاف سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے روپے کی قدر گرنے پر بھی سونے کے ریٹس ملکی ہسٹری میں ریکارڈ بلندیوں کو چھو چکے ہیں۔
- انٹرنیشنل مارکیٹ لنکج (Global Market Link): مقامی صرافہ ریٹس کا تعین سو فیصد لندن بلین مارکیٹ اور ڈالر انٹرچینج ریٹ کے فارمولے کے تحت ہوتا ہے، اسی لیے عالمی مارکیٹ میں چند ڈالرز کا اتار چڑھاؤ یہاں ہزاروں روپے کا فرق ڈالتا ہے۔
- چاندی بمقابلہ سونا (Industrial Demand): سونا خالصتاً مالیاتی اور زیورات کی سیکیورٹی کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ چاندی کی قیمتوں کا بڑا دارومدار الیکٹرانکس اور سولر انڈسٹری کی صنعتی کھپت پر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں دھاتوں کے ریٹس بعض اوقات مختلف سمتوں میں سفر کرتے ہیں۔
سونے کے ریٹس میں یہ مسلسل گراوٹ خریداروں کے لیے ایک بہترین موقع ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ 4 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد برقرار رکھتی ہے یا آنے والے دنوں میں سونا مزید سستا ہو کر عام آدمی کی پہنچ میں آتا ہے۔

Comments
Post a Comment