شرپسند صیہونی ریاست کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی فوج کو لبنان کے دارالحکومت بیروت پر تابڑ توڑ اور شدید ترین حملے کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔ اس جارحانہ اقدام کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی ایک نئی اور ہولناک لہر اٹھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ حکومتِ لبنان نے اس پر شدید ترین احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
نیتن یاہو کا ویڈیو بیان اور تاریخی قلعے پر قبضے کا دعویٰ
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے ملکی فورسز کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے "داحیہ" میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری مزید تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ حزب اللہ اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنائے اور بیروت میں اس کے مراکز محفوظ رہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی فوج جنوبی لبنان میں گزشتہ 26 برس کی سب سے گہری پیش قدمی کر چکی ہے اور انہوں نے تاریخی "بیوفورٹ قلعے" پر بھی اپنا قبضہ جما لیا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ نے اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کی اور شمالی اسرائیل پر ڈرون اور راکٹ حملے کیے، جس کے جواب میں یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔
حزب اللہ کا جواب اور لبنانی حکومت کے ہولناک اعداد و شمار
دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے یہ تازہ حملے جنگ بندی معاہدے کی روح کے سراسر منافی ہیں اور یہ خطے کو ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل دیں گے۔
ادھر لبنانی حکومت نے اسرائیلی وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے باقاعدہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق:
- جانی نقصان: مارچ سے جاری صیہونی جارحیت اور لڑائی کے نتیجے میں اب تک 3 ہزار 330 سے زائد معصوم لبنانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
- بڑے پیمانے پر ہجرت: اسرائیلی بمباری کے باعث اب تک 10 لاکھ سے زائد لبنانی باشندے اپنے گھر بار چھوڑ کر بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔
- اسرائیلی نقصان: دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں کارروائی کے دوران حزب اللہ کے جوابی حملوں میں اس کے درجنوں فوجی اور چند شہری بھی مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ رواں سال اپریل میں ہوا تھا، جس میں بعد میں توسیع بھی کی گئی تھی، لیکن اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روند ڈالا ہے۔
⬇️ Click to Read this Article in English
Ceasefire Violated: Netanyahu Orders Intensified Airstrikes on Beirut, Lebanon Protests
Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu has openly bypassed the US-brokered ceasefire agreement, ordering his military forces to launch intensified and aggressive airstrikes on the Lebanese capital, Beirut. The move has triggered severe diplomatic protests from the Lebanese government and threatened to plunge the region back into full-scale conflict.
Netanyahu's Video Statement and Beaufort Castle Claims
In a video address, Netanyahu stated that Israeli forces must aggressively target alleged Hezbollah strongholds in Dahiyeh, a southern suburb of Beirut, arguing that Israeli cities cannot be hit while Beirut remains a safe haven for operational centers. Tel Aviv claims this escalation is a direct response to repeated ceasefire violations by Hezbollah, including rocket and drone attacks on northern Israel. Netanyahu also claimed that Israeli ground troops have advanced deep into southern Lebanon, securing the historic Beaufort Castle in their deepest incursion in 26 years.
Hezbollah Retaliates Amid Deepening Humanitarian Crisis
Hezbollah strongly rejected the allegations, stating that Israel's aggressive maneuvers completely violate the spirit of the April truce. Meanwhile, official data released by the Lebanese government reveals a worsening humanitarian catastrophe; since March, Israeli military operations have claimed over 3,330 lives and displaced more than 1 million citizens. Israel also acknowledged losing dozens of its soldiers during the ongoing ground confrontations in southern territories.
The sudden escalation heavily jeopardizes the stability of the international truce structured by the United States earlier this April.
Comments
Post a Comment