پابندی کی صورت میں کیا ہوتا؟ عام انسان پر اثر
سوئٹزرلینڈ کی موجودہ آبادی اس وقت تقریباً 91 لاکھ (9.1 million) ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی، تو حکومت پابند ہوتی کہ وہ 2050 تک آبادی کو کسی صورت 1 کروڑ سے اوپر نہ جانے دے۔ اس کے لیے فیملی ویزوں، رہائشی اجازت ناموں اور پناہ گزینوں (Asylum) پر سخت ترین پابندیاں لگانا پڑتیں۔ سب سے خطرناک شرط یہ تھی کہ اگر آبادی حد سے بڑھتی، تو سوئٹزرلینڈ کو یورپی یونین (EU) کے ساتھ آزادانہ نقل و حرکت کا معاہدہ ختم کرنا پڑتا، جس سے سوئس معیشت کو اربوں ڈالرز کا جھٹکا لگ سکتا تھا۔
دائیں بازو کی پارٹی (SVP) کا مؤقف تھا کہ غیر ملکیوں کی بھرمار سے سوئٹزرلینڈ کے اسکولوں، ہسپتالوں، ہاؤسنگ اور قدرتی وسائل پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان کا روایتی لائف اسٹائل خطرے میں ہے۔ یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں رہنے والے تقریباً 27 فیصد لوگ غیر ملکی شہری ہیں۔ لیکن عام شہریوں نے اس ڈر سے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا کہ اگر غیر ملکیوں پر پابندی لگی، تو ہسپتالوں کے لیے ڈاکٹرز اور نرسیں کہاں سے آئیں گی اور فیکٹریاں کیسے چلیں گی؟
تبصرہ و تجزیہ: سوئس حکومت کا سکون کا سانس
سوئٹزرلینڈ کی مرکزی حکومت، بزنس گروپس اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس بیلٹ کے خلاف تھیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یورپی یونین سے ناطہ توڑنا ملک کو معاشی طور پر تنہا کر دے گا۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ نازک عالمی حالات اور جنگوں کے ماحول میں کسی چھوٹے ملک کے لیے ایسا الگ تھلگ فیصلہ کرنا خودکشی کے مترادف ہوتا۔ عوام نے جذبات کے بجائے عقل کو ترجیح دی اور معاشی خوشحالی کا ساتھ دیا۔
سوئٹزرلینڈ کا سابقہ ریکارڈ اور نظامِ حکومت (Evergreen Context):
اس تاریخی واقعے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے اس منفرد ریکارڈ پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
- براہِ راست جمہوریت (Direct Democracy): سوئٹزرلینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عوام براہِ راست قوانین بناتے ہیں۔ اگر کوئی بھی شہری 18 مہینوں میں 1 لاکھ دستخط جمع کر لے، تو حکومت اس کے قانون پر پورے ملک میں ووٹنگ کروانے کی پابند ہوتی ہے۔ یہ ریفرنڈم سال میں 4 بار ہوتے ہیں۔
- 2002 کا تاریخی معاہدہ: سوئٹزرلینڈ نے 2002 میں یورپی یونین کے ساتھ 'فری موومنٹ' کا معاہدہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے سوئس آبادی میں 23 فیصد جبکہ ملک کی معیشت میں 24 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا ہے۔
- عالمی ریکارڈ: دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی بھی ملک نے اپنی کل آبادی پر قانونی حد لگانے کے لیے اس طرح کی ووٹنگ نہیں کروائی تھی۔ یہ اپنے طرز کا پہلا عالمی معرکہ تھا۔
آخر کار، سوئس عوام کے اس فیصلے نے یورپ کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا ہے۔ اگرچہ دائیں بازو کی اینٹی ہجرت مہم اس بار ناکام ہو گئی، لیکن 45 فیصد لوگوں کا اس کے حق میں ووٹ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپ میں تارکینِ وطن کے خلاف اندرونی غصہ کس حد تک بڑھ چکا ہے۔

Comments
Post a Comment