سوڈانی پناہ گزین کا برطانوی شہری پر چاقو سے حملہ اور فسادات کا آغاز
بیلفاسٹ میں ان ہنگاموں کا آغاز اس وقت ہوا جب سوڈان سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ پناہ گزین ہادی الودید پر برطانوی شہری اسٹیفن اوگلوے پر قاتلانہ حملے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس حملے میں برطانوی شہری اپنی بائیں آنکھ سے محروم ہو گیا، جس کے بعد ایلون مسک اور دیگر رائٹ ونگ ایکٹوسٹس نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کی۔ ان پوسٹس کے بعد بیلفاسٹ میں نقاب پوش افراد نے سڑکیں بلاک کر دیں، گاڑیوں اور گھروں کو آگ لگا دی اور غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا، جسے ارکانِ پارلیمنٹ نے "نسل پرستانہ قتلِ عام" کی کوشش قرار دیا ہے۔
حالات اس حد تک سنگین ہو گئے کہ یوگنڈا سے تعلق رکھنے والی دو ہیلتھ کیئر ورکرز کو ایک چرچ کے پادری نے مشتعل ہجوم کے چنگل سے بمشکل ریسکیو کیا۔ متاثرہ خواتین نے بتایا کہ ہجوم نے ان کے گھر کو گھیر رکھا تھا اور پڑوسی گھروں کو آگ لگائی جا رہی تھی۔ دوسری جانب، متاثرہ برطانوی شہری کے خاندان نے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سانحے پر دلبرداشتہ ضرور ہیں لیکن وہ تشدد کو یکسر مسترد کرتے ہیں کیونکہ برطانیہ کا ہیلتھ کیئر اور ہاسپیٹلٹی سیکٹر ان ملاحوں اور تارکینِ وطن کی محنت پر ہی چلتا ہے۔
آن لائن سیفٹی ایکٹ میں ترمیم اور ایلون مسک کا مؤقف
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے تقسیم اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس معاملے پر حکومتی اقدامات اور موجودہ قانونی پوزیشن درج ذیل ہے:
- قانون میں تاخیر: برطانوی حکومت "آن لائن سیفٹی ایکٹ" میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو فوری مواد ہٹانے کا پابند کیا جا سکے، لیکن یہ ترمیم جولائی کے وسط سے پہلے نافذ نہیں ہو سکتی۔
- میڈیا ریگولیٹر (Ofcom): حکومت فی الحال یہ معاملہ میڈیا ریگولیٹر آف کام پر چھوڑ رہی ہے، جو 'X' کی تعمیل سے متعلق پہلی سہ ماہی رپورٹ کا انتظار کر رہا ہے، جس میں کم از کم دو ماہ لگیں گے۔
- ایلون مسک کا ردِعمل: ایلون مسک نے تشدد بھڑکانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ اس تناؤ کی اصل وجہ سوشل میڈیا نہیں بلکہ برطانیہ کی "بڑے پیمانے پر غیر کنٹرول شدہ امیگریشن اور کھلی سرحدوں کی پالیسی" ہے۔
برطانیہ کے سابق کاؤنٹر ٹیررازم چیف نیل باسو نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر امیگریشن کے خلاف پھیلائی جانے والی یہ نفرت اس وقت برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے اسلام پسند دہشت گردی سے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

Comments
Post a Comment