برطانیہ میں بڑا سیکیورٹی آپریشن، 12 انتہا پسند گرفتار

British counter-terrorism police cars outside a residential area during an investigation
برطانوی پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے دائیں بازو کی انتہا پسندانہ دہشت گردی کی ایک ہولناک سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم فورس نے انگلینڈ کے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر 12 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ ہفتے کے آخر میں منعقد ہونے والے ایک بڑے اسلامی اجتماع کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی "انتہائی دائیں بازو کی دہشت گردی" (Extreme Right-Wing Terrorism) کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہے، جس کے بعد پورے ملک میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

15 ہزار شرکاء کی حفاظت اور "شدید" سیکیورٹی الرٹ

یہ مذہبی اجتماع مشرقی انگلینڈ کے علاقے سفک (Suffolk) میں ایک کنٹری ہاؤس میں منعقد ہو رہا تھا، جس میں تقریباً 15 ہزار سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی۔ یہ تقریب 9 سے 12 جولائی تک جاری رہی اور اتوار کو منصوبہ بندی سے تھوڑا پہلے ہی ختم کر دی گئی۔ برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر لکھا کہ "یہ خبر برطانوی مسلمانوں کے لیے انتہائی فکر انگیز ہوگی۔ ہمیں نفرت کے خلاف متحد ہونا ہوگا اور ایک ایسے ملک پر یقین رکھنا ہوگا جو تمام برادریوں کے لیے روادار اور کھلا ہو۔"

برطانیہ نے رواں سال اپریل میں دہشت گردی کے خطرے کا قومی لیول بڑھا کر "شدید" (Severe) کر دیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں کسی بھی وقت حملہ ہونے کا شدید امکان موجود ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 27 سے 60 سال کے درمیان ہیں جن میں سے 8 افراد اس وقت ٹیررازم ایکٹ کے تحت حراست میں ہیں، جبکہ تین افراد پر قتل کی سازش اور ایک خاتون پر مجرم کی مدد کرنے کا شبہ ہے۔ پولیس اس وقت لندن، مانچسٹر اور مشرقی انگلینڈ میں مشتبہ مقامات کی تلاشی لے رہی ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: یورپ میں اسلامو فوبیا اور انتہا پسندی کا جن

اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ مغربی ممالک میں دائیں بازو کی انتہا پسندی اور اسلامو فوبیا (Islamophobia) اب ایک باقاعدہ داخلی سیکیورٹی ناسور بن چکا ہے۔ ماضی میں بھی مساجد اور اسلامی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن 15 ہزار کے بڑے پرامن اجتماع پر حملے کی ایسی ہولناک دھمکیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ نفرت انگیز نظریات نوجوان نسل کو کس حد تک انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اگرچہ برطانوی پولیس کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے سے بچا لیا، لیکن جب تک سوشل میڈیا اور سیاسی سطح پر دائیں بازو کے ان عناصر کی نفرت انگیز مہم کا مستقل سدِباب نہیں کیا جاتا، تب تک اقلیتوں کا تحفظ خطرے میں رہے گا۔


⬇️ Click to Read this International Story in English

UK Terror Plot Foiled: 12 Arrested Over Far-Right Threat To Islamic Event


LONDON: British counter-terrorism police have arrested 12 people following a "potential serious threat" directed at a major Islamic gathering in Suffolk, eastern England. The event, which was attended by nearly 15,000 people from July 9 to 12, was forced to close slightly earlier than scheduled on Sunday due to safety interventions. Officers are currently searching multiple properties in London, Manchester, and eastern England.

A Grim Reminder of Rising Far-Right Extremism

The suspects, aged between 27 and 60, are being held under the Terrorism Act and on suspicion of conspiracy to commit murder. Home Secretary Shabana Mahmood expressed deep concern for British Muslims, emphasizing the need to stand united against hatred. The arrests serve as a stark reminder of the UK's national terrorism threat level, which was elevated to "Severe" in April, highlighting a highly likely risk of attacks.

Comments