میسی کا جادو اور لاؤتارو مارٹنیز کا فیصلہ کن گول
میچ کا پہلا ہاف بغیر کسی گول کے برابر رہا، لیکن دوسرے ہاف کے 55 ویں منٹ میں انگلینڈ کے انتھونی گورڈن نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔ انگلینڈ 1966 کے بعد پہلی بار فائنل میں پہنچنے کی پوزیشن میں نظر آ رہا تھا، لیکن کھیل کے 85 ویں منٹ میں جادوگر فٹ بالر لیونل میسی کے بہترین پاس پر اینزو فرنینڈس نے خوبصورت گول کر کے میچ 1-1 سے برابر کر دیا۔ ابھی میچ اضافی وقت کی طرف جاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا کہ 92 ویں منٹ میں میسی کے ایک اور خوبصورت کراس پر لاؤتارو مارٹنیز نے ہیڈر کے ذریعے گیند کو نیٹ میں پہنچا کر اپنی ٹیم کو ناقابلِ یقین کامیابی دلا دی۔
اس تاریخی جیت کے ساتھ ہی 39 سالہ لیونل میسی برازیل کے لیجنڈ کافو کے بعد دنیا کے دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں جو تین ورلڈ کپ فائنلز کھیلیں گے۔ دوسری طرف، انگلینڈ کی ٹیم اور ان کے مینیجر تھامس ٹوخل کو اس شکست کا شدید صدمہ پہنچا ہے کیونکہ ان کے اہم کھلاڑی جوڈ بیلنگھم اور کپتان ہیری کین اس اہم موقع پر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے، اور اب انہیں تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ کے لیے فرانس کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تبصرہ و تجزیہ
ارجنٹائن اور انگلینڈ کا سیمی فائنل ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ فٹ بال میں آخری سیٹی بجنے تک کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔ انگلینڈ نے گول کرنے کے بعد حد سے زیادہ دفاعی کھیل (Defensive Game) اپنانے کی سنگین غلطی کی جس کا ارجنٹائن نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ لیونل میسی کی غیر معمولی کپتانی اور اہم لمحات پر دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ اب فائنل میں ارجنٹائن اور اسپین کا ٹکراؤ دنیا کے دو بہترین فٹ بالنگ اسٹائلز کا مقابلہ ہوگا، جہاں ارجنٹائن کے پاس برازیل (1962) کے بعد مسلسل دوسرا ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بننے کا سنہری موقع ہے۔

Comments
Post a Comment