82 مریضوں کی زندگی خطرے میں: دل دہلا دینے والے مناظر
جرمن میڈیا 'بلڈ' (BILD) کے مطابق، جس وقت 'ہیلین ون بولو کلینیکم' اسپتال کے ریڈیولوجی شعبے کی چھت میں آگ لگی، اس عمارت کے اندر 82 لاچار اور بیمار مریض موجود تھے۔ آگ لگتے ہی زہریلا اور کالا دھواں سیکنڈوں میں پورے اسپتال کے وارڈز میں پھیل گیا، جس سے مریضوں کا دم گھٹنے لگا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ہولناک مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریسکیو ورکرز مریضوں کو ان کے بستروں اور وہیل چیئرز سمیت جلتی ہوئی عمارت سے باہر نکال رہے ہیں۔ شدید سردی اور دھویں کے بیچ مریض اپنے اسپتال کے لباس میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر بے یار و مددگار بیٹھے نظر آئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ریسکیو کے دوران کئی مریضوں کی حالت ایسی تھی کہ انہیں سی پی آر (Resuscitation) دینا پڑ رہا تھا۔ ابھی تک آگ لگنے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے، لیکن ابتدائی رپورٹس کے مطابق شارٹ سرکٹ یا چھت کے ڈھانچے میں خرابی اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: یورپی انفراسٹرکچر اور اسپتالوں کا فائر سیکیورٹی سسٹم
اس حادثے پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ جہاں ایک طرف جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کو جدید ترین طبی سہولیات اور بہترین انفراسٹرکچر کا ماڈل سمجھا جاتا ہے، وہاں اسپتالوں جیسی حساس عمارات میں فائر الارم اور ہنگامی اخراج (Emergency Exit) کے نظام کا اس طرح فیل ہو جانا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اسپتال میں موجود مریض خود اپنی حفاظت کرنے کے قابل نہیں ہوتے، اس لیے وہاں سیکیورٹی کے معیار عام عمارات سے دس گنا زیادہ سخت ہونے چاہئیں۔ اگر ریڈیولوجی جیسے حساس شعبے، جہاں مہنگی اور خطرناک تابکاری والی مشینری ہوتی ہے، کی چھت اتنی جلدی آگ پکڑ سکتی ہے، تو یہ ثابت کرتا ہے کہ یورپی ممالک میں بھی پرانی عمارتوں کی مینٹیننس میں مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے۔
دنیا بھر میں اسپتالوں میں لگنے والی آگ کے بڑے حادثات کا پسِ منظر:
اسپتالوں میں فائر سیکیورٹی کی غفلت نے ماضی میں بھی دنیا بھر میں معصوم جانیں نگلی ہیں:
- عراق الحسین اسپتال سانحہ (2021): ناصریہ شہر کے کووڈ اسپتال میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے ہولناک آگ لگی تھی، جس کے نتیجے میں 92 سے زائد مریض زندہ جل گئے تھے اور عالمی سطح پر سیکیورٹی قوانین بدلنے کا مطالبہ ہوا تھا۔
- روس سینٹ پیٹرزبرگ اسپتال (2020): وینٹی لیٹرز میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی آگ نے آئی سی یو وارڈ کو لپیٹ میں لے لیا تھا، جس میں کورونا کے متعدد مریض ہلاک ہوئے تھے۔
- بھارت کولکتہ AMRI اسپتال (2011): بھارتی تاریخ کا بدترین اسپتال حادثہ، جہاں بیسمنٹ میں لگی آگ کا دھواں سینٹرل اے سی کے ذریعے وارڈز میں پھیل گیا تھا اور رات کے اندھیرے میں 89 مریض دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے تھے۔
جرمنی کے اس پرامن قصبے میں پیش آنے والا یہ حادثہ ایک بڑا سبق ہے کہ غفلت کسی بھی ملک میں ہو، اس کا انجام ہمیشہ معصوم جانوں کے زیاں کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جرمن حکومت اس غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیسے کرتی ہے۔

Comments
Post a Comment