میچ کا احوال: شیلڈرپ کی برتری اور بیلنگھم کا جوابی وار
میچ کا آغاز دونوں ٹیموں کی جانب سے انتہائی محتاط انداز میں ہوا، لیکن 36ویں منٹ میں ناروے کے اینڈریاس شیلڈرپ نے ایک زوردار شاٹ کے ذریعے انگلینڈ کے گول کیپر جورڈن پکفورڈ کو چکمہ دے کر اپنی ٹیم کو 1-0 کی برتری دلا دی۔ انگلینڈ نے ہار نہ مانی اور پہلے ہاف کے اضافی وقت میں انتھونی گورڈن کے خوبصورت پاس پر جوڈ بیلنگھم نے شاندار گول کر کے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ دوسرے ہاف میں انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخیل نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بوکایو ساکا اور ایبریچی ایزے کو میدان میں اتارا۔ اگرچہ ناروے نے کئی خطرناک حملے کیے، لیکن انگلینڈ کا دفاع چٹان کی طرح مضبوط رہا۔
میچ کے اضافی وقت میں جوڈ بیلنگھم نے ایک بار پھر اپنی کلاس ثابت کی۔ ناروے کے گول کیپر اوریان نی لینڈ نے مورگن راجرز کے ایک خطرناک شاٹ کو تو روک لیا، لیکن وہاں موجود بیلنگھم نے پھرتی سے گیند کو جال کی راہ دکھا کر انگلینڈ کو 2-1 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔ دوسری طرف، ناروے کے سپر اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ پورے میچ میں انگلش ڈیفنس کے سامنے بے بس نظر آئے اور کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھائے بغیر اضافی وقت میں میدان سے باہر بلا لیے گئے۔
تبصرہ و تجزیہ: تھامس ٹوخیل کی حکمت عملی اور 1966 کی تاریخ دہرانے کا موقع
انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخیل نے دوسرے ہاف میں تبدیلیاں کر کے میچ کا رخ بدل دیا۔ ناروے کی ٹیم ایرلنگ ہالینڈ پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی تھی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگلش ڈیفنس نے انہیں پورے میچ میں ہلے نہیں دیا۔ انگلینڈ کی تاریخ رہی ہے کہ وہ بڑے میچوں میں پریشر کا شکار ہو جاتا ہے، جیسا کہ 1990 میں جرمنی اور 2018 میں کروشیا کے خلاف سیمی فائنل میں دیکھنے کو ملا تھا۔ لیکن اس بار جوڈ بیلنگھم جیسے نوجوان کھلاڑیوں کا اعتماد یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ٹیم 1966 کی تاریخی ورلڈ کپ فتح کو دہرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

Comments
Post a Comment