وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ! ہلاکتیں 2300 کے قریب، ملبے تلے زندگی کی امیدیں دم توڑ گئیں

Devastating rubble and rescue operations in Venezuela following the historic twin earthquakes
تیل کی دولت سے مالامال لیکن طویل معاشی بحران کے شکار ملک وینزویلا میں آنے والے دو پے در پے ہولناک زلزلوں کو ایک ہفتہ مکمل ہونے کے بعد اب ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ 7.2 اور 7.5 شدت کے ان قیامت خیز زلزلوں نے پورے کے پورے شہروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے ملک میں 7 روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی جانوں کے اس بدترین نقصان نے ملک کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اس وقت بھی تقریباً 50 ہزار افراد لاپتہ ہیں جن کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔

بھوک کا بحران، امداد کے لیے خونی جنگ اور وبائی امراض کا خطرہ

سب سے زیادہ متاثرہ ساحلی شہر لاگوائرا (La Guaira) میں ملبے کے ڈھیروں پر اب زندگی کی امید نہ ہونے کے باعث 'D' (یعنی مردہ) کا نشان لگایا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ملبے سے پیاروں کی لاشیں نکالنے کا دردناک سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف زندہ بچ جانے والے لاکھوں افراد کے لیے اب بقا کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ پینے کے صاف پانی اور خوراک کی بدترین قلت کے باعث امدادی کیمپوں میں لوگ کھانے کے ایک ایک لقمے کے لیے ایک دوسرے پر پل پڑ رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے 5 لاکھ لوگوں کو تین ماہ تک کھانا کھلانے کے لیے ہنگامی طور پر 5 کروڑ ڈالرز کی اپیل کی ہے۔

اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے بعد اب عالمی ادارہ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں خسرہ اور ڈپتھیریا جیسی مہلک وبائی بیماریوں کے پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ناسا (NASA) کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق زلزلوں کی وجہ سے تقریباً 59 ہزار سے زائد عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

تبصرہ و تجزیہ: معاشی بدحالی، سیاسی منتقلی اور قدرتی آفت کا قہر

اس بدترین سانحے پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ وینزویلا پچھلی کئی دہائیوں سے بدترین معاشی بحران، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ سابق صدر نکولس مدورو کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ملک ابھی صرف چھ ماہ سے نازک سیاسی منتقلی کے دور سے گزر رہا تھا کہ اس قدرتی آفت نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ جب کسی ملک کا ہیلتھ سسٹم اور انفراسٹرکچر پہلے ہی وینٹی لیٹر پر ہو، تو وہاں ایسے بڑے زلزلے ہلاکتوں کے گراف کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اگرچہ امریکی فوج کے 2 ہزار اہلکار اور دنیا بھر کی ریسکیو ٹیمیں وہاں موجود ہیں، لیکن حکومتی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار عروج پر ہے، جس نے اس سانحے کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔

وینزویلا اور لاطینی امریکہ میں زلزلوں کی ہسٹری:

لاطینی امریکہ کی پٹی ہمیشہ سے شدید زلزلوں کی زد میں رہی ہے، جس کا ماضی کا ریکارڈ درج ذیل ہے:

  • وینزویلا زلزلہ (1967): کاراکاس میں آنے والے 6.6 شدت کے زلزلے نے بھاری تباہی مچائی تھی اور 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، موجودہ زلزلہ ایک صدی کا بدترین زلزلہ قرار دیا گیا ہے۔
  • ہیٹی تباہ کن زلزلہ (2010): لاطینی امریکہ کے جزیرے ہیٹی میں آنے والے زلزلے نے 2 لاکھ سے زائد انسانوں کی جان لی تھی، جو تاریخ کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار ہوتا ہے۔
  • چلی کا زلزلہ (1960): دنیا کی تاریخ کا سب سے طاقتور زلزلہ چلی میں آیا تھا جس کی شدت 9.5 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کے جھٹکے پورے خطے میں محسوس کیے گئے تھے۔

وینزویلا اس وقت تاریخ کے بدترین دوراہے پر کھڑا ہے۔ ملبے تلے سسکتی زندگیوں کے ساتھ ساتھ اب بھوک اور بیماریوں سے نمٹنا نئی انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔


⬇️ Click to Read this International Story in English

Venezuela Quakes: Hope Fades as Death Toll Nears 2,300 Amid Desperate Food Crisis


CARACAS: A week after twin earthquakes of magnitude 7.2 and 7.5 shattered Venezuela, hopes of finding more survivors underneath the rubble have drastically faded. Interim President Delcy Rodriguez has declared seven days of national mourning, as the official death toll rose to 2,295, with over 11,000 injured and an estimated 50,000 people still missing across the country.

A Grim Survival Battle Against Hunger and Looting

The disaster has plunged the oil-rich nation, already fragile after the ouster of Nicolas Maduro, into deep chaos. Survivors in the hardest-hit city of La Guaira are facing acute shortages of food and water, leading to desperate clashes and widespread looting at emergency shelters. The World Food Programme has appealed for an urgent $50 million in aid, while the World Health Organization warns of a high risk of deadly disease outbreaks due to destroyed medical infrastructure.

Comments