امریکہ کی 250 ویں سالگرہ پر سیاسی دھماکہ! ڈونلڈ ٹرمپ کا ماؤنٹ رشمور سے مخالفین پر "کمیونسٹ" کا لیبل اور ملک بدری کا اعلان
"یا کارل مارکس کے وفادار بنو یا امریکہ کے" – ٹرمپ کا تیکھا وار
ایف-16 طیاروں کی گھرجدار فلائی اوور اور "USA! USA!" کے نعروں کے بیچ ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور پر تراشے گئے چار عظیم امریکی صدور (جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن، تھیوڈور روزویلٹ اور ابراہام لنکن) کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے نیویارک کے سوشلسٹ میئر زہران ممدانی اور حالیہ پرائمری انتخابات میں جیتنے والے دیگر ترقی پسند امیدواروں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے اندر ایک بار پھر کمیونزم کا ناسور سر اٹھا رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کمیونزم پہلی اور دوسری جنگِ عظیم اور 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں سے بھی بڑا خطرہ ہے، اور کوئی بھی شخص بیک وقت کمیونسٹ اور محبِ وطن نہیں ہو سکتا۔
ٹرمپ نے اپنے پرانے اینٹی امیگریشن (مخالفِ ہجرت) بیانیے کو دوبارہ دہراتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک میں آنے والے نئے تارکینِ وطن ایسے نظریات ساتھ لا رہے ہیں جو امریکی طرزِ زندگی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں کے ہجوم کے سامنے اعلان کیا کہ وہ اس کمیونسٹ سوچ کو بہت جلد شکست دیں گے اور ایسے عناصر کو ملک سے باہر (جلاوطن) کر دیں گے۔ انہوں نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ "سیو امریکہ ایکٹ" پاس کرے، جس کے بعد ان کے بقول وہ اگلے 100 سال تک کوئی الیکشن نہیں ہاریں گے۔
تبصرہ و تجزیہ: امریکی تاریخ کو توڑنے مروڑنے کی کوشش اور نظریاتی جنگ
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے اس عظیم الشان دن کو مکمل طور پر اپنی انتخابی مہم اور ووٹرز کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جارج واشنگٹن اور تھامس جیفرسن جیسے ہیروز کی تعریفیں کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس تلخ حقیقت کو دانستہ طور پر چھپایا کہ یہ دونوں رہنما خود غلاموں کے مالک (Slaveholders) تھے۔ مزید یہ کہ جس "بلیک ہلز" کے مقام پر ٹرمپ کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے، وہ علاقہ امریکی حکومت نے 1877 میں ریڈ انڈینز (سیوکس برادری) سے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر چھینا تھا۔ ٹرمپ کا اپنے ہی شہریوں کو کمیونسٹ کہہ کر ملک بدر کرنے کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اس وقت بدترین اندرونی نظریاتی جنگ کا شکار ہے، جہاں تاریخ کو اپنی سیاست کے لیے نئے سرے سے لکھا جا رہا ہے۔
امریکہ میں ڈیموکریٹس بمقابلہ رپبلکنز کی حالیہ سیاسی تاریخ:
امریکہ میں بڑھتے ہوئے اس سیاسی اور نظریاتی ٹکراؤ کا پسِ منظر اور حالیہ ریکارڈز درج ذیل ہیں:
- مڈٹرم الیکشنز کا دباؤ (2026): نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات کے لیے رپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے، اور ٹرمپ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو بچانے کے لیے سخت ترین بیانیے کا سہارا لے رہے ہیں۔
- ترقی پسند لہر (Progressive Wave): نیویارک، کولوراڈو، کینٹکی، پنسلوانیا اور ٹیکساس کی حالیہ پرائمریز میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں کی بڑی فتوحات نے ٹرمپ کے کیمپ میں کھلبلی مچا دی ہے، جس کا غصہ ماؤنٹ رشمور پر نکالا گیا۔
- ووٹنگ قوانین پر تنازع (Save America Act): ٹرمپ جس قانون کو پاس کروانے پر اصرار کر رہے ہیں، اسے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ڈیموکریٹس غریب اور اقلیتی ووٹرز کا راستہ روکنے (Voter Suppression) کا ایک بڑا ہتھیار قرار دے رہے ہیں۔
امریکہ کی یہ 250 ویں سالگرہ ایک ایسے وقت میں منائی جا رہی ہے جب پورا ملک بدترین گرمی کی لہر (Heatwave) کی لپیٹ میں ہے اور جشن کے پروگرام متاثر ہو رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس دھماکے دار مہم جوئی کا مڈٹرم انتخابات پر کیا اثر پڑتا ہے۔

Comments
Post a Comment