امریکہ کی 250 ویں سالگرہ پر سیاسی دھماکہ! ڈونلڈ ٹرمپ کا ماؤنٹ رشمور سے مخالفین پر "کمیونسٹ" کا لیبل اور ملک بدری کا اعلان

US President Donald Trump speaking at the Mount Rushmore National Memorial during Independence Day celebrations
امریکہ کی آزادی کے 250 ویں سالگرہ کے تاریخی موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور (South Dakota) کے تاریخی مقام سے ایک سنسنی خیز اور انتہائی جارحانہ تقریر کر کے ملک کے اندر ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ روایتی طور پر آزادی کا یہ دن ملک کو متحد کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن نومبر کے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے محض چار ماہ قبل ٹرمپ نے اس اسٹیج کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے ڈیموکریٹس اور ترقی پسند قوتوں کو "کمیونسٹ خطرہ" قرار دیتے ہوئے انہیں 4 جولائی 1776 کے نظریات کا سب سے بڑا دشمن قرار دے دیا۔

"یا کارل مارکس کے وفادار بنو یا امریکہ کے" – ٹرمپ کا تیکھا وار

ایف-16 طیاروں کی گھرجدار فلائی اوور اور "USA! USA!" کے نعروں کے بیچ ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور پر تراشے گئے چار عظیم امریکی صدور (جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن، تھیوڈور روزویلٹ اور ابراہام لنکن) کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے نیویارک کے سوشلسٹ میئر زہران ممدانی اور حالیہ پرائمری انتخابات میں جیتنے والے دیگر ترقی پسند امیدواروں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے اندر ایک بار پھر کمیونزم کا ناسور سر اٹھا رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کمیونزم پہلی اور دوسری جنگِ عظیم اور 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں سے بھی بڑا خطرہ ہے، اور کوئی بھی شخص بیک وقت کمیونسٹ اور محبِ وطن نہیں ہو سکتا۔

ٹرمپ نے اپنے پرانے اینٹی امیگریشن (مخالفِ ہجرت) بیانیے کو دوبارہ دہراتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک میں آنے والے نئے تارکینِ وطن ایسے نظریات ساتھ لا رہے ہیں جو امریکی طرزِ زندگی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں کے ہجوم کے سامنے اعلان کیا کہ وہ اس کمیونسٹ سوچ کو بہت جلد شکست دیں گے اور ایسے عناصر کو ملک سے باہر (جلاوطن) کر دیں گے۔ انہوں نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ "سیو امریکہ ایکٹ" پاس کرے، جس کے بعد ان کے بقول وہ اگلے 100 سال تک کوئی الیکشن نہیں ہاریں گے۔

تبصرہ و تجزیہ: امریکی تاریخ کو توڑنے مروڑنے کی کوشش اور نظریاتی جنگ

اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے اس عظیم الشان دن کو مکمل طور پر اپنی انتخابی مہم اور ووٹرز کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جارج واشنگٹن اور تھامس جیفرسن جیسے ہیروز کی تعریفیں کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس تلخ حقیقت کو دانستہ طور پر چھپایا کہ یہ دونوں رہنما خود غلاموں کے مالک (Slaveholders) تھے۔ مزید یہ کہ جس "بلیک ہلز" کے مقام پر ٹرمپ کھڑے ہو کر تقریر کر رہے تھے، وہ علاقہ امریکی حکومت نے 1877 میں ریڈ انڈینز (سیوکس برادری) سے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر چھینا تھا۔ ٹرمپ کا اپنے ہی شہریوں کو کمیونسٹ کہہ کر ملک بدر کرنے کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اس وقت بدترین اندرونی نظریاتی جنگ کا شکار ہے، جہاں تاریخ کو اپنی سیاست کے لیے نئے سرے سے لکھا جا رہا ہے۔

امریکہ میں ڈیموکریٹس بمقابلہ رپبلکنز کی حالیہ سیاسی تاریخ:

امریکہ میں بڑھتے ہوئے اس سیاسی اور نظریاتی ٹکراؤ کا پسِ منظر اور حالیہ ریکارڈز درج ذیل ہیں:

  • مڈٹرم الیکشنز کا دباؤ (2026): نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات کے لیے رپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے، اور ٹرمپ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو بچانے کے لیے سخت ترین بیانیے کا سہارا لے رہے ہیں۔
  • ترقی پسند لہر (Progressive Wave): نیویارک، کولوراڈو، کینٹکی، پنسلوانیا اور ٹیکساس کی حالیہ پرائمریز میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں کی بڑی فتوحات نے ٹرمپ کے کیمپ میں کھلبلی مچا دی ہے، جس کا غصہ ماؤنٹ رشمور پر نکالا گیا۔
  • ووٹنگ قوانین پر تنازع (Save America Act): ٹرمپ جس قانون کو پاس کروانے پر اصرار کر رہے ہیں، اسے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ڈیموکریٹس غریب اور اقلیتی ووٹرز کا راستہ روکنے (Voter Suppression) کا ایک بڑا ہتھیار قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ کی یہ 250 ویں سالگرہ ایک ایسے وقت میں منائی جا رہی ہے جب پورا ملک بدترین گرمی کی لہر (Heatwave) کی لپیٹ میں ہے اور جشن کے پروگرام متاثر ہو رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس دھماکے دار مہم جوئی کا مڈٹرم انتخابات پر کیا اثر پڑتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Political Story in English

Partisan Storm: Trump Attacks 'Communist Menace' During America’s 250th Birthday Speech


KEYSTONE, SD: US President Donald Trump kicked off America’s semiquincentennial Independence Day weekend at Mount Rushmore with a fiercely partisan speech, labeling progressive political rivals as a "communist menace" and the ultimate enemies of July 4th, 1776. Speaking just four months before the crucial November midterm elections, Trump abandoned traditional unifying presidential rhetoric to launch a direct assault on democratic socialists and rising progressive leaders.

Controversy Over Immigration, Voting Rights, and Historical Narratives

During his half-hour address, Trump tied his anti-communist rhetoric to immigration, suggesting that those who embrace opposing ideas could face exile. He further pressured Congress to pass the controversial Save America Act to overhaul voting procedures. Critics slammed the President for using the historic milestone to weaponize tribal divisions and rewrite history, pointing out the dark historical ironies of hosting the event on treaty land seized unlawfully from Native Americans in 1877.

Comments