امریکہ کا ایرانی فوج پر پہلا براہِ راست حملہ! 30 سے زائد شہری اور 7 فوجی جاں بحق

A military-style map representing tactical missile strikes in southern Iran region
ایران کے جنوبی اور جنوب مشرقی علاقوں پر ہونے والے حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے ایک بیان میں اس ہولناک جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔ دوسری طرف، ایرانی فوج کی بیرکوں پر ہونے والے ایک بڑے میزائل حملے میں فوج کے 7 اہلکار جاں بحق اور 13 زخمی ہو گئے ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق، موجودہ تنازع کے آغاز کے بعد سے ایرانی فوج پر یہ پہلا براہِ راست امریکی حملہ ہے۔

بامپور بیرکوں پر 13 میزائل داغے گئے، بوشہر بھی نشانہ بن گیا

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، امریکی فوج نے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر بامپور میں ایرانی زمینی فوج کے بیرکوں کی رہائشی عمارتوں اور قریبی سویلین آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے 13 میزائل داغے۔ اس حملے میں 388 ویں بریگیڈ کے 7 اہلکار جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ بدھ کی صبح ایران کے جنوب مغربی شہر بوشہر میں بھی تین مقامات پر امریکی فضائی حملے کیے گئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ایرانی فوج نے اس کھلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو اس کا "دندان شکن جواب" دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت مزید سنگین ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی حملے آنے والے دنوں میں مزید تیز کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو اگلے ہفتے سے ایران کے پاور پلانٹس اور اہم ترین پلوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے معاملے پر حالیہ دنوں میں شدید تصادم دیکھنے میں آیا ہے، حالانکہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان ایک امن معاہدہ (اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت) طے پایا تھا، جس کی خلاف ورزی پر ایران نے اقوامِ متحدہ کو باقاعدہ شکایتی خط بھی ارسال کر دیا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ

امریکی فوج کی جانب سے پہلی بار ایرانی فوج کی باقاعدہ بیرکوں کو براہِ راست نشانہ بنانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ تنازع اب ایک نئی اور انتہائی خطرناک نہج پر پہنچ چکا ہے۔ اب تک اسرائیل یا امریکہ کے حملے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) یا پراکسی ٹھکانوں تک محدود تھے، لیکن ملٹری بیرکوں پر براہِ راست حملے نے ایران کے دفاعی وقار کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کی اس طرح خلاف ورزی اور ٹرمپ کی جانب سے سول انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکی خطے کو ایک بھرپور جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور معیشت بری طرح مفلوج ہونے کا خطرہ ہے۔


⬇️ Click to Read this Military Update in English

US Launches First Direct Strike on Iranian Army barracks; Over 30 Civilians Killed


TEHRAN: In a massive escalation, the US military launched 13 missiles targeting an army barracks in the southeastern city of Bampur, Sistan and Balochistan province. The strike marked the first direct US attack on the regular Iranian army during the current conflict, leaving 7 soldiers dead and 13 wounded. Additionally, government officials confirmed that over 30 civilians lost their lives in separate recent attacks across southern Iran.

Trump Warns of Infrastructure Attacks Amid Islamabad MoU Collapse

US President Donald Trump warned that strikes would intensify next week, threatening to target Iran’s power grids and critical bridges if Tehran refuses to return to negotiations. The escalation comes despite a recent Pakistan-mediated memorandum of understanding (Islamabad MoU), which Iran now accuses the United States of violating in a formal letter sent to the United Nations.

Comments