بامپور بیرکوں پر 13 میزائل داغے گئے، بوشہر بھی نشانہ بن گیا
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، امریکی فوج نے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر بامپور میں ایرانی زمینی فوج کے بیرکوں کی رہائشی عمارتوں اور قریبی سویلین آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے 13 میزائل داغے۔ اس حملے میں 388 ویں بریگیڈ کے 7 اہلکار جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ بدھ کی صبح ایران کے جنوب مغربی شہر بوشہر میں بھی تین مقامات پر امریکی فضائی حملے کیے گئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ایرانی فوج نے اس کھلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو اس کا "دندان شکن جواب" دینے کا اعلان کیا ہے۔
در حملات روزهای اخیر به جنوب کشور، بیش از ۳۰ تن از شهروندان غیرنظامی به شهادت رسیدند. ضمن ابراز همدردی و تسلیت به خانوادههای داغدار، یاد جانباختگان را گرامی میداریم. دولت با تمام توان در کنار مردم خواهد بود.
— فاطمه مهاجرانی (@F_Mohajerani) July 15, 2026
جنوب ایران، قلب تپنده این سرزمین است.جنوب ایران،جان ایران.
یہ کشیدگی اس وقت مزید سنگین ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی حملے آنے والے دنوں میں مزید تیز کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو اگلے ہفتے سے ایران کے پاور پلانٹس اور اہم ترین پلوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے معاملے پر حالیہ دنوں میں شدید تصادم دیکھنے میں آیا ہے، حالانکہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان ایک امن معاہدہ (اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت) طے پایا تھا، جس کی خلاف ورزی پر ایران نے اقوامِ متحدہ کو باقاعدہ شکایتی خط بھی ارسال کر دیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
امریکی فوج کی جانب سے پہلی بار ایرانی فوج کی باقاعدہ بیرکوں کو براہِ راست نشانہ بنانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ تنازع اب ایک نئی اور انتہائی خطرناک نہج پر پہنچ چکا ہے۔ اب تک اسرائیل یا امریکہ کے حملے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) یا پراکسی ٹھکانوں تک محدود تھے، لیکن ملٹری بیرکوں پر براہِ راست حملے نے ایران کے دفاعی وقار کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کی اس طرح خلاف ورزی اور ٹرمپ کی جانب سے سول انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکی خطے کو ایک بھرپور جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور معیشت بری طرح مفلوج ہونے کا خطرہ ہے۔

Comments
Post a Comment