اوپن اے آئی کا بڑا یوٹرن! برطانیہ کا 30 ارب پاؤنڈ کا میگا 'اسٹار گیٹ' پروجیکٹ صرف ایک پبلک ریلیشن اسٹنٹ نکلا

A futuristic server room representing OpenAI datacentre infrastructure and artificial intelligence investments
برطانوی حکومت کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے میدان میں امریکی شراکت داری کے تحت پیش کیے جانے والے اب تک کے سب سے بڑے میگا پروجیکٹ "اسٹار گیٹ یوکے" (Stargate UK) کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ برطانوی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے حکام نے اس میگا ڈیٹا سینٹر کے لیے مختص کی گئی بنیادی جگہ کا کبھی دورہ ہی نہیں کیا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے جس 30 ارب پاؤنڈز (کھربوں روپے) کی ممکنہ سرمایہ کاری کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا، اس میں سے 20 ارب پاؤنڈز مکمل طور پر فرضی اور مفروضوں پر مبنی تھے۔

سرکاری تشہیر بمقابلہ زمینی حقائق: ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کا سستا اسٹنٹ

ذرائع کے مطابق، پچھلے سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے موقع پر حکومت کو ایک بہت بڑی میڈیا سرخی (Big Announcement) کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے برطانوی ٹیک کمپنی 'این اسکیل' (Nscale) اور اوپن اے آئی کو اچانک شامل کر کے نارتھ ٹائنسائیڈ کے کوبالٹ پارک کو "AI گروتھ زون" قرار دے دیا گیا۔ اب ایک انفارمیشن ایکٹ (FoI) کے تحت سامنے آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اوپن اے آئی یا این اسکیل کے کسی اعلیٰ اہلکار نے مقامی انتظامیہ سے کوئی ملاقات ہی نہیں کی، جبکہ صرف این ویڈیا (Nvidia) کے حکام نے فروری 2026 میں اس جگہ کا روایتی دورہ کیا تھا، جو ٹرمپ کے دورے کے پانچ ماہ بعد بنتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب حکومت سے پوچھا گیا کہ 20 ارب پاؤنڈ کا ہندسہ کہاں سے آیا، تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی طے شدہ سرمایہ کاری نہیں تھی، بلکہ حکومت کا منطق یہ تھا کہ چونکہ اس ڈیٹا سینٹر کو چلانے کے لیے 20 ارب پاؤنڈز کی "ضرورت پڑے گی"، اس لیے انہوں نے اسے "ممکنہ سرمایہ کاری" لکھ دیا۔ سیکیورٹی اور کرپشن پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیموں نے اسے برطانوی عوام کے ساتھ سنگین مذاق اور دھوکہ دہی قرار دیا ہے۔ مقامی اپوزیشن لیڈرز کا کہنا ہے کہ اس جگہ پر ڈیٹا سینٹر چلانے کے لیے بجلی کا گرڈ کنکشن اور بنیادی انفراسٹرکچر سرے سے موجود ہی نہیں ہے، جس کی وجہ سے اب یہ پروجیکٹ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: ہائی ٹیک انڈسٹری میں سیاسی فوٹو سیشن کا کلچر

اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے کو اب سیاستدان اپنی سیاسی بقا اور میڈیا پبلسٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک میں میگا ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے لیے سستی بجلی، مضبوط الیکٹرک گرڈ اور واضح ریگولیٹری قوانین کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ صرف خوبصورت پریس ریلیز اور ہائی پروفائل فوٹو سیشنز کی ۔ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے ریگولیشن اور بجلی کے ہائی اخراجات کا بہانہ بنا کر اپریل میں پروجیکٹ کو ہولڈ پر ڈال دیا اور پورا ملبہ برطانوی انفراسٹرکچر پر گرا دیا۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ جب تک بنیادی ڈھانچہ مضبوط نہ ہو، عالمی ٹیک کمپنیاں صرف سیاسی بیانات کی بنیاد پر اربوں ڈالرز کی حقیقی سرمایہ کاری کبھی نہیں کرتیں۔

اوپن اے آئی کے اس پیچھے ہٹنے سے برطانوی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے، اور اب حکومت ایک خصوصی ٹاسک فورس کے ذریعے اس علاقے کی بجلی کی صلاحیت کو 2028 تک بڑھانے کے دعوے کر رہی ہے تاکہ کسی دوسرے پارٹنر کو راغب کیا جا سکے۔


⬇️ Click to Read this Tech Story in English

Phantom Investment: OpenAI Never Visited Key Site of £30bn 'Stargate UK' Datacentre


LONDON: A major investigation has revealed that OpenAI never visited the core site of the highly publicized "Stargate UK" datacentre project in North Tyneside. Furthermore, £20 billion of the total £30 billion investment touted by the British government during Donald Trump's high-profile visit last year appears to be completely hypothetical and little more than a government PR stunt.

Lack of Grid Infrastructure and High Energy Costs

Freedom of Information (FoI) requests confirmed that neither Sam Altman's OpenAI nor UK tech firm Nscale held official meetings with local combined authorities before or immediately after the announcement. Local leaders expressed immense surprise at the sudden hype, noting that the fundamental electricity grid infrastructure to support a project of this magnitude simply does not exist. OpenAI recently paused the plans, citing concerns over high energy costs and UK technology regulations.

Comments