بینکاک بار میں ہولناک آتشزدگی! ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو گئی، ہنگامی راستے بند ہونے کا انکشاف

Fire trucks and security personnel near the burnt site of a bar in Bangkok representing Thailand safety updates
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے ایک مشہور بار میں اتوار کی رات لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 30 ہو گئی ہے، جبکہ 70 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں سے 24 کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے۔ تھائی حکام نے حادثے کے بعد عمارت کے مالکان کی مجرمانہ غفلت اور حفاظتی انتظامات میں سنگین کوتاہیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ عینی شاہدین اور بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد جب انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو ہنگامی اخراج کے راستے (Emergency Exits) بند تھے اور وہاں کوئی حفاظتی اشارے بھی موجود نہیں تھے۔

پلاسٹک کے سجاوٹی پھول، فوم کی چھت اور لاکڈ دروازے

فائر سیفٹی کے ماہرین نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ بار کے واش رومز کے قریب موجود ہنگامی راستہ باہر سے لاک تھا، جبکہ مرکزی دروازوں کو فرنیچر اور دیگر سامان رکھ کر جزوی طور پر بلاک کیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اسٹیج کو سجانے کے لیے انتہائی آتش گیر مواد جیسے پلاسٹک کے پھول اور چھت پر فوم شیٹس کا استعمال کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ نے چند سیکنڈز میں پورے ہال کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس سانحے میں وہاں پرفارم کرنے والے تھائی لینڈ کے مشہور انڈی بینڈ "تھوتساکان" (Thotsakan) کے دو ارکان بھی ہلاک ہو گئے۔

ماہرینِ تعمیرات کا ماننا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں آگ سے جلنے کی بجائے زہریلے دھوئیں (کاربن مونو آکسائیڈ اور ہائیڈروجن سائنائیڈ) کے پھیپھڑوں میں جانے کی وجہ سے دم گھٹنے سے ہوئیں۔ یہ گیسیں پلاسٹک اور فوم کے جلنے سے پیدا ہوئیں جنہیں آگ کے دھوئیں کا "قاتل جوڑا" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس بار کا مالک پہلے صوبہ یاسوتھون میں ایک اور پب کا مالک تھا، جو دسمبر 2019 میں بھی اسی طرح ہولناک آگ کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا تھا، تاہم وہ واقعہ دن کے وقت پیش آنے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

تبصرہ و تجزیہ

بینکاک کا یہ دردناک سانحہ اس بات کی بدترین مثال ہے کہ کس طرح قانونی سقم (Loopholes) اور ہوسِ زر معصوم انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بنتی ہے۔ اس بار کو "لائیو میوزک ریسٹورنٹ" کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا نہ کہ "انٹرٹینمنٹ وینیو" کے طور پر، جس کا فائدہ اٹھا کر انتظامیہ نے فائر پروف مواد استعمال کرنے کی قانونی پابندی سے خود کو بچایا۔ جب تک دنیا بھر میں ایسے کاروباری مراکز اور پبلک مقامات پر بلڈنگ کوڈز کی سخت ترین خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے اور مالکان کو عبرت ناک سزائیں نہیں دی جاتیں، تب تک معصوم لوگ تفریحی مقامات پر اس طرح زندہ جلتے رہیں گے۔

دنیا میں نائٹ کلبز اور بارز میں آتشزدگی کے بدترین سانحات:

پبلک تفریحی مقامات پر حفاظتی انتظامات کی کمی کی وجہ سے ماضی میں پیش آنے والے چند بڑے المیے درج ذیل ہیں:

  • سانٹا ماریا، برازیل نائٹ کلب فائر (2013): کِس (Kiss) نائٹ کلب میں اسٹیج پر آتش بازی کے سامان کے استعمال سے فوم کی چھت نے آگ پکڑ لی تھی، جس کے نتیجے میں زہریلے دھوئیں اور بھگدڑ کی وجہ سے 242 نوجوان ہلاک ہو گئے تھے۔
  • دی اسٹیشن نائٹ کلب، امریکہ (2003): ایک راک بینڈ کی پرفارمنس کے دوران لگنے والی آگ نے صرف ساڑھے پانچ منٹ میں پورے کلب کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا، جس میں ایمرجنسی ایگزٹ بند ہونے کی وجہ سے 100 افراد ہلاک اور 230 زخمی ہوئے تھے۔
  • گوٹنبرگ نائٹ کلب، سویڈن (1998): ہالووین پارٹی کے دوران ایک ڈسکو کلب کے ہنگامی اخراج والے راستے کو بلاک کیے جانے کی وجہ سے لگنے والی آگ میں 63 نوجوان دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

بینکاک کی شہری انتظامیہ نے اب ریسٹورنٹس اور کلبز میں تعمیراتی مواد کے حوالے سے قوانین پر نظرِ ثانی شروع کر دی ہے، لیکن یہ اقدامات ان 30 خاندانوں کے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتے جنہوں نے انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کی قیمت اپنی جانیں دے کر چکائی۔


⬇️ Click to Read this International Story in English

Bangkok Bar Fire Death Toll Reaches 30 Amid Shocking Safety Failures


BANGKOK: The death toll from the devastating fire at Rong Beer Na Lat Phrao bar in Bangkok has risen to 30, while dozens remain hospitalized. Survivors and fire safety experts have revealed a series of alarming safety lapses, including emergency exit doors being locked from the outside and key exits partially blocked by furniture.

Highly Flammable Decorative Materials Blamed

According to preliminary investigations, a short circuit in an air conditioner triggered the fire near the stage. The flames spread within seconds due to the extensive use of combustible plastic flowers on the stage and flammable foam plaster on the ceiling, releasing deadly carbon monoxide and hydrogen cyanide gases. Authorities are now auditing safety regulations across all restaurants and entertainment venues in Bangkok.

Comments