ایران کے جوابی حملے اور قطر پر میزائل داغنے کی کوشش
ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات ہونے والے امریکی حملوں میں ایران کا ایرانشہر ایئرپورٹ، بندر عباس ریلوے جنکشن، چابہار میری ٹائم کنٹرول ٹاور اور دو اہم پلوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں بھاری سول انفراسٹرکچر تباہ ہوا۔ اس کارروائی کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے شام کے علاقے التنف میں واقع امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر پر میزائلوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور جب تک امریکی حملے بند نہیں ہوتے، اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا بھر کے لیے تیل یا گیس کی برآمدات روک دی جائیں گی۔ اسی دوران قطر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں ایک میزائل حملہ ناکام بنایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اس لڑائی میں بڑی کامیابی حاصل کر رہا ہے اور اس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران نے اس امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی جو پاکستان کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرانی تھی۔ معاہدہ ٹوٹنے کے بعد امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ذاتی مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
تبصرہ و تجزیہ
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کی ناکامی اور امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی ہولناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی مسلسل چھ راتوں کی بمباری اور سول انفراسٹرکچر کی تباہی کے جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی کل توانائی کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے سپلائی ہوتا ہے۔ شام میں امریکی اڈے پر ایرانی جوابی حملے اور قطر میں میزائلوں کی مداخلت اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ جنگ اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ سفارتی ذرائع فوری طور پر متحرک نہ ہوئے تو عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی اور ایک نیا عالمی بحران جنم لے گا۔

Comments
Post a Comment