امریکی حملے میں 38 ایرانی ہلاک، آبنائے ہرمز پر نیا بحران

Fighter jets and naval vessels operations representing US military presence in the Middle East
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی اب باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایرانی وزارتِ صحت کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین کرمان پور کے مطابق، 22 جون کو امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز سے لے کر اب تک ایران میں کم از کم 38 افراد جاں بحق اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران پر مسلسل چھٹی رات بھی تباہ کن فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ایرانی ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، لاجسٹک مراکز اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کے جوابی حملے اور قطر پر میزائل داغنے کی کوشش

ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات ہونے والے امریکی حملوں میں ایران کا ایرانشہر ایئرپورٹ، بندر عباس ریلوے جنکشن، چابہار میری ٹائم کنٹرول ٹاور اور دو اہم پلوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں بھاری سول انفراسٹرکچر تباہ ہوا۔ اس کارروائی کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے شام کے علاقے التنف میں واقع امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر پر میزائلوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور جب تک امریکی حملے بند نہیں ہوتے، اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا بھر کے لیے تیل یا گیس کی برآمدات روک دی جائیں گی۔ اسی دوران قطر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں ایک میزائل حملہ ناکام بنایا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اس لڑائی میں بڑی کامیابی حاصل کر رہا ہے اور اس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران نے اس امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی جو پاکستان کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرانی تھی۔ معاہدہ ٹوٹنے کے بعد امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ذاتی مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تبصرہ و تجزیہ

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کی ناکامی اور امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی ہولناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کی مسلسل چھ راتوں کی بمباری اور سول انفراسٹرکچر کی تباہی کے جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی کل توانائی کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے سپلائی ہوتا ہے۔ شام میں امریکی اڈے پر ایرانی جوابی حملے اور قطر میں میزائلوں کی مداخلت اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ جنگ اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ سفارتی ذرائع فوری طور پر متحرک نہ ہوئے تو عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی اور ایک نیا عالمی بحران جنم لے گا۔


⬇️ Click to Read this War Story in English

US-Iran War Escalates: 38 Killed in US Strikes, Iran Vows to Block Strait of Hormuz


TEHRAN: At least 38 Iranians have been killed and over 400 injured since the United States resumed its military campaign on June 22, according to the Iranian Ministry of Health. US Central Command (CENTCOM) confirmed completing its sixth consecutive night of offensive airstrikes targeting Iranian coastal surveillance, air defenses, and logistics hubs following violations of a Pakistan-mediated memorandum of understanding.

Iran Retaliates on US Syria Base; Threatens Global Oil Supply

In response to strikes on its civilian infrastructure including Iranshahr airport and Bandar Abbas railway, the IRGC claimed to have targeted a US special operations command center in Al-Tanf, Syria. The Guards warned that they retain full control of the strategic Strait of Hormuz and will halt all oil and gas transits if US aggression continues. Meanwhile, Qatar announced it successfully intercepted a missile attack over Doha amid the rising regional chaos.

Comments