برطانیہ کا بڑا فیصلہ! خواتین اور لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا 45 ملین پاؤنڈ کا عالمی منصوبہ اچانک بند

A symbolic image showing a locked school gate representing the suspension of international educational aid
برطانوی حکومت نے افریقہ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی تقریباً 10 لاکھ لڑکیوں کو اسکولوں اور اعلیٰ تعلیم سے جوڑے رکھنے کے لیے شروع کیا گیا اپنا فلیگ شپ پروگرام "شیفی" (SHEFE) صرف دو سال بعد ہی اچانک بند کر دیا ہے۔ 45 ملین پاؤنڈز (اربوں روپے) کے بجٹ پر مشتمل اس بڑے منصوبے کو سابق کنزرویٹو حکومت نے بڑے دعوؤں کے ساتھ لانچ کیا تھا، لیکن اب فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (FCDO) نے اس کا ٹینڈر باقاعدہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے پر عالمی تعلیمی اداروں اور پارلیمانی نیٹ ورکس کی جانب سے شدید تشویش اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

برطانوی خارجہ پالیسی کا تضاد اور غریب ترین ممالک پر کٹوتیوں کی مار

یہ فیصلہ برطانوی حکومت کے ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہے جس میں خواتین کے تحفظ اور تعلیم کو اولین ترجیح قرار دیا گیا تھا۔ حال ہی میں برطانوی ہوم آفس نے افغانستان، سوڈان، میانمار اور کیمرون جیسے جنگ زدہ ممالک کی طالبات کے لیے نئے اسٹوڈنٹ ویزے بھی بلاک کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں میں کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد کا شکار ہونے کا امکان 6 گنا تک کم ہو جاتا ہے، لیکن اس کٹوتی سے دنیا کی سب سے زیادہ پسماندہ خواتین بری طرح متاثر ہوں گی۔ اس سے قبل برطانیہ نے جنوبی سوڈان میں معذور بچوں اور لڑکیوں کے لیے جاری 150 ملین پاؤنڈز کا "ایجوکیشن فار آل" پروگرام بھی منسوخ کر دیا تھا، جبکہ ایتھوپیا، نائجیریا اور سیرا لیون جیسے ممالک میں بھی تعلیمی فنڈز روک دیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کے مطابق، یونیسیف (Unicef) کی رپورٹ بتاتی ہے کہ عالمی سطح پر تعلیم کے لیے دی جانے والی امداد میں 2026 کے آخر تک 3.2 ارب ڈالرز کی ریکارڈ کمی آئے گی، جس کی وجہ سے مزید 60 لاکھ بچے اسکولوں سے محروم ہو جائیں گے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے ملکی امدادی بجٹ کو قومی آمدنی کے 0.5 فیصد سے گھٹا کر 0.3 فیصد کر دیا ہے، جو برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی کٹوتی ہے۔ برطانوی حکومت کے ترجمان نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کٹوتی دفاعی بجٹ کو بڑھانے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: دفاعی بجٹ کی ہوس اور پسماندہ دنیا کے ساتھ بڑا دھوکہ

اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ مغربی ممالک کے بلند و بانگ انسانی حقوق کے دعوے صرف ان کے اپنے مفادات تک محدود ہیں۔ اپنی دفاعی طاقت بڑھانے اور جنگی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے دنیا کی سب سے مظلوم اور پسماندہ لڑکیوں کا تعلیمی بجٹ روکنا ایک بڑی اخلاقی ناکامی ہے۔ لیبر پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں عالمی امداد بڑھانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اقتدار میں آتے ہی یوٹرن لے لیا۔ جب تک دنیا کی بڑی طاقتیں ہتھیاروں کی جنگ سے نکل کر غریب ممالک میں تعلیم اور ترقی پر سرمایہ کاری نہیں کریں گی، تب تک نہ تو عالمی سطح پر غربت کا خاتمہ ممکن ہے اور نہ ہی انتہا پسندی کو روکا جا سکتا ہے۔


⬇️ Click to Read this International Story in English

UK Sparks Outrage After Axing £45m Global Female Education Project


LONDON: The British government has abruptly scrapped its flagship "Strengthening Higher Education for Female Empowerment" (SHEFE) programme just two years after its high-profile launch. The £45 million initiative was specifically designed to support and keep 1 million marginalized girls in higher education across Africa, Asia, and the Middle East. The FCDO confirmed the withdrawal of the tender, citing historic aid budget cuts.

Massive Aid Cuts to Fund Defense Spending

The sudden move has sent shockwaves through the international development sector, as it follows similar massive funding cuts in South Sudan, Ethiopia, and Nigeria. Furthermore, the Home Office has restricted study visas for female applicants from crisis zones including Afghanistan and Sudan. While Prime Minister Keir Starmer's administration defended the reduction of the aid budget to fund national defense expenditures, international networks have labeled the decision a direct betrayal of global commitments to women's safety and gender equality.

Comments