برطانوی خارجہ پالیسی کا تضاد اور غریب ترین ممالک پر کٹوتیوں کی مار
یہ فیصلہ برطانوی حکومت کے ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہے جس میں خواتین کے تحفظ اور تعلیم کو اولین ترجیح قرار دیا گیا تھا۔ حال ہی میں برطانوی ہوم آفس نے افغانستان، سوڈان، میانمار اور کیمرون جیسے جنگ زدہ ممالک کی طالبات کے لیے نئے اسٹوڈنٹ ویزے بھی بلاک کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں میں کم عمری کی شادی اور گھریلو تشدد کا شکار ہونے کا امکان 6 گنا تک کم ہو جاتا ہے، لیکن اس کٹوتی سے دنیا کی سب سے زیادہ پسماندہ خواتین بری طرح متاثر ہوں گی۔ اس سے قبل برطانیہ نے جنوبی سوڈان میں معذور بچوں اور لڑکیوں کے لیے جاری 150 ملین پاؤنڈز کا "ایجوکیشن فار آل" پروگرام بھی منسوخ کر دیا تھا، جبکہ ایتھوپیا، نائجیریا اور سیرا لیون جیسے ممالک میں بھی تعلیمی فنڈز روک دیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کے مطابق، یونیسیف (Unicef) کی رپورٹ بتاتی ہے کہ عالمی سطح پر تعلیم کے لیے دی جانے والی امداد میں 2026 کے آخر تک 3.2 ارب ڈالرز کی ریکارڈ کمی آئے گی، جس کی وجہ سے مزید 60 لاکھ بچے اسکولوں سے محروم ہو جائیں گے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے ملکی امدادی بجٹ کو قومی آمدنی کے 0.5 فیصد سے گھٹا کر 0.3 فیصد کر دیا ہے، جو برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی کٹوتی ہے۔ برطانوی حکومت کے ترجمان نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کٹوتی دفاعی بجٹ کو بڑھانے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: دفاعی بجٹ کی ہوس اور پسماندہ دنیا کے ساتھ بڑا دھوکہ
اس پوری صورتحال پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ مغربی ممالک کے بلند و بانگ انسانی حقوق کے دعوے صرف ان کے اپنے مفادات تک محدود ہیں۔ اپنی دفاعی طاقت بڑھانے اور جنگی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے دنیا کی سب سے مظلوم اور پسماندہ لڑکیوں کا تعلیمی بجٹ روکنا ایک بڑی اخلاقی ناکامی ہے۔ لیبر پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں عالمی امداد بڑھانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اقتدار میں آتے ہی یوٹرن لے لیا۔ جب تک دنیا کی بڑی طاقتیں ہتھیاروں کی جنگ سے نکل کر غریب ممالک میں تعلیم اور ترقی پر سرمایہ کاری نہیں کریں گی، تب تک نہ تو عالمی سطح پر غربت کا خاتمہ ممکن ہے اور نہ ہی انتہا پسندی کو روکا جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment