امریکی ٹیکنالوجی اور یوکرینی ساختہ ڈرونز کا خطرناک گٹھ جوڑ
اس ڈرون آرڈر میں یوکرین کی معروف کمپنی 'اسکائی فال' (SkyFall) کے تیار کردہ سستے اور انتہائی کارآمد "شرائیک" (Shrike) فرسٹ پرسن ویو (FPV) ڈرونز شامل ہیں۔ ان ڈرونز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ امریکی دفاعی ٹیکنالوجی فرم 'آٹیرین' (Auterion) کے تیار کردہ جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس سافٹ ویئر سے لیس ہیں۔ یہ سافٹ ویئر ڈرون کو پرواز کے آخری مرحلے میں متحرک اور چلتے پھرتے فوجی اہداف کو خودکار طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ 'آٹیرین' کے سی ای او لورینز میئر نے تصدیق کی ہے کہ اس بڑے عسکری کنٹریکٹ کی مالیت تقریباً 90 ملین یورو (93 ملین ڈالرز) ہے، اور اس کے تحت کئی ڈرونز یوکرین کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی رواں سال ہی فراہم کر دیے جائیں گے۔
دوسری طرف، جرمنی اور یوکرین کی وزارتِ دفاع نے آپریشنل سیکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاہدے کی تفصیلات پر باقاعدہ تبصرہ کرنے سے فی الحال انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ 'شرائیک' ڈرونز نے حال ہی میں امریکی پینٹاگون کے ایک اہم دفاعی مقابلے میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جس کے بعد امریکی حکومت بھی یوکرین کے لیے مجموعی طور پر ایک لاکھ ڈرونز کی فراہمی میں مختلف مغربی ممالک کے ساتھ شراکت داری کر رہی ہے۔ اس سے قبل برطانیہ نے بھی یوکرین کے لیے 150,000 ڈرونز فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تبصرہ و تجزیہ: ڈرون ٹیکنالوجی اور مستقبل کی خودکار جنگیں
اس پوری عسکری پیش رفت پر گہرا تجزیہ یہ بنتا ہے کہ روس یوکرین جنگ نے روایتی جنگی طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب جنگیں مہنگے ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کے بجائے سستے اور سمارٹ ڈرونز کے سہارے لڑی جا رہی ہیں۔ جرمنی کی طرف سے 50 ہزار اے آئی (AI) سافٹ ویئر سے لیس ڈرونز کی فنڈنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب مغربی ممالک یوکرین کو انسانی افرادی قوت کی کمی سے بچانے کے لیے خودکار ہتھیاروں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پرواز کے آخری مرحلے میں خودکار طریقے سے ہدف کو ڈھونڈ کر تباہ کرنے والے یہ ڈرونز سگنل جیمنگ سسٹم کو بھی ناکام بنا سکتے ہیں۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں دنیا بھر کے خطوں میں سیکیورٹی کے لیے نئے اور انتہائی پیچیدہ چیلنجز پیدا کرے گی۔

Comments
Post a Comment