کینیڈین خود مختاری پر حملہ اور یو ایس ایم سی اے (USMCA) کا خاتمہ
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اس یکطرفہ اقدام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے کینیڈا کی سلامتی و خود مختاری کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی بھی تجویز دی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کینیڈا گاڑیوں کے پرزہ جات اور امریکی ڈائری پروڈکٹس پر 300 فیصد تک کا بھاری ٹیکس وصول کرتا ہے اور کینیڈین صوبوں نے امریکی مشروبات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کینیڈین اسٹیل اور ایلومینیم پر بھی 15 سے 50 فیصد تک کا ٹیکس لگا چکا ہے جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی امریکی اسٹیل پر 25 فیصد کا کاؤنٹر ٹیرف عائد کر رکھا تھا۔
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ایمرجنسی پاورز کے تحت لگائے گئے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اس بار 1930 کے ٹیرف ایکٹ کے سیکشن 338 کا سہارا لیا ہے جو تجارتی امتیازات کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ کینیڈا کی چیمبر آف کامرس نے اس فیصلے کو انتہائی ناخوشگوار قرار دیا ہے جبکہ امریکی کاروباری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کینیڈا کی طرف سے جواباً مزید سخت اقتصادی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 50 فیصد کے ان بھاری ٹیرف کا بنیادی مقصد کینیڈا کو سیاسی اور معاشی طور پر زبردست دباؤ میں لانا ہے۔ ٹرمپ اپنی تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسی کے ذریعے کینیڈا کے سپلائی مینجمنٹ سسٹم اور گاڑیوں کی صنعت پر امریکی کنٹرول مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے مذاکرات کو تیز کرنے کی بات کی ہے، لیکن امریکی گاڑیوں اور ڈائری سیکٹر پر تنازع اتنا گہرا ہے کہ 30 دنوں کے اندر کسی بڑی پیشرفت کا امکاں بہت کم ہے۔ اس معاشی کشیدگی سے نہ صرف شمالی امریکہ کے تجارتی معاہدے (USMCA) کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ دونوں ممالک کی سرحد کے آر پار سامان منتقل کرنے والی ہزاروں صنعتیں اور عام صارفین شدید مہنگائی کی لپیٹ میں آئیں گے۔

Comments
Post a Comment