غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فائرنگ، 6 فلسطینی شہید

Makeshift tents in central Gaza following recent military shelling and displacements
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، وسطی غزہ میں واقع البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرقی جانب قائم خیموں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ معصوم بچی "تالا ابو مٹر" سمیت کم از کم 5 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع اور طبی عملے نے بچی کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حسبِ معمول دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے "دہشت گردوں" کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، تاہم انہوں نے بچی کی ہلاکت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

معاہدے کی خلاف ورزیاں اور قاہرہ میں امن مذاکرات

یہ حالیہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا چکا تھا۔ اگرچہ اس معاہدے کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر جاری جنگ تو رک گئی تھی، لیکن یہ اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ سے لے کر اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں 4 اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

تشدد کا یہ نیا واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب حماس کے رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے قاہرہ (مصر) کے دورے پر ہیں۔ مذاکرات کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بات چیت میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا جیسے اہم ترین نکات شامل ہیں، تاہم اب تک ان مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت یا بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا ہے۔ اس وقت غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی، جو کئی بار بے گھر ہو چکی ہے، ساحل کے ساتھ ایک انتہائی تنگ پٹی پر خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: کاغذی جنگ بندی اور معصوم جانوں کا زیاں

اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر میں ہونے والا معاہدہ صرف ایک کاغذی کارروائی ثابت ہو رہا ہے۔ جب تک زمینی سطح پر جنگ بندی پر مکمل اور سختی سے عمل درآمد نہیں کروایا جائے گا، تب تک معصوم بچوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا۔ ایک طرف امن کے نام پر قاہرہ میں مذاکرات کے ڈرامے رچائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف خیموں میں پناہ لینے والے پناہ گزینوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر نئی امریکی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صرف منصوبے پیش کرنے کے بجائے اسرائیل پر عملی دباؤ ڈالے تاکہ غزہ میں جاری اس انسانی المیے اور معصوم جانوں کے زیاں کو مستقل طور پر روکا جا سکے۔


⬇️ Click to Read this Middle East Story in English

Gaza Violence: 9-Year-Old Girl Among Five Killed in Israeli Attacks Despite Ceasefire


GAZA: Palestinian health officials confirmed that at least five people, including a 9-year-old girl identified as Tala Abu Matar, were killed following Israeli gunfire at a tent encampment in the Al-Bureij refugee camp. While the Israeli military claimed it targeted "terrorist" infrastructure, the latest casualties highlight the fragility of the peace deal.

Cairo Talks Continue Amid Violations

Despite the formal ceasefire agreed upon in October 2025, over 1,000 Palestinians have tragically lost their lives due to ongoing sporadic attacks. The latest violence erupted as Hamas leadership arrived in Cairo for crucial diplomatic talks regarding the implementation of the second phase of US President Donald Trump’s Gaza peace plan, which covers troop withdrawals and disarmament frameworks.

Comments