معاہدے کی خلاف ورزیاں اور قاہرہ میں امن مذاکرات
یہ حالیہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا چکا تھا۔ اگرچہ اس معاہدے کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر جاری جنگ تو رک گئی تھی، لیکن یہ اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ سے لے کر اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں 4 اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
تشدد کا یہ نیا واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب حماس کے رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے قاہرہ (مصر) کے دورے پر ہیں۔ مذاکرات کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بات چیت میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا جیسے اہم ترین نکات شامل ہیں، تاہم اب تک ان مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت یا بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا ہے۔ اس وقت غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی، جو کئی بار بے گھر ہو چکی ہے، ساحل کے ساتھ ایک انتہائی تنگ پٹی پر خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: کاغذی جنگ بندی اور معصوم جانوں کا زیاں
اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر میں ہونے والا معاہدہ صرف ایک کاغذی کارروائی ثابت ہو رہا ہے۔ جب تک زمینی سطح پر جنگ بندی پر مکمل اور سختی سے عمل درآمد نہیں کروایا جائے گا، تب تک معصوم بچوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا۔ ایک طرف امن کے نام پر قاہرہ میں مذاکرات کے ڈرامے رچائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف خیموں میں پناہ لینے والے پناہ گزینوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر نئی امریکی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صرف منصوبے پیش کرنے کے بجائے اسرائیل پر عملی دباؤ ڈالے تاکہ غزہ میں جاری اس انسانی المیے اور معصوم جانوں کے زیاں کو مستقل طور پر روکا جا سکے۔

Comments
Post a Comment