بنگلہ دیش! 76 سالہ صدر محمد شہاب الدین شدید بیماری کی وجہ سے مستعفی

Mohammed Shahabuddin addressing an official event representing Bangladesh political developments
بنگلہ دیش کے 76 سالہ صدر محمد شہاب الدین نے صحت کی سنگین خرابی کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں انہوں نے بتایا کہ حالیہ طبی معائنے کے بعد ان میں "آٹونومک نیوروپیتھی" (Autonomic Neuropathy) نامی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے باعث وہ اکثر اوقات کچھ لمحات کے لیے بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے قریبی اتحادی سمجھے جانے والے محمد شہاب الدین اپریل 2023 سے ملک کے آئینی سربراہ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

شیخ حسینہ کے لیے بڑا سیٹ بیک اور سپیکر کو ذمہ داریاں تفویض

صدر کے استعفے کے بعد بنگلہ دیشی آئین کے تحت پارلیمنٹ کے اسپیکر نئے صدر کے انتخاب تک ملک کے قائم مقام آئینی سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ محمد شہاب الدین کے استعفے کو شیخ حسینہ واجد کے لیے ایک انتہائی بڑا سیاسی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ ڈھاکہ کی اعلیٰ ترین قیادت میں ان کی آخری مضبوط اتحادی سائے کی مانند موجود تھے۔ دسمبر میں شیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کے اعلانات کے بعد سے وزیرِ اعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی اور سیاسی حلقوں کا شدید دباؤ تھا کہ وہ شیخ حسینہ کے باقی ماندہ تمام حامیوں کو اعلیٰ سرکاری عہدوں سے برطرف کریں۔

یاد رہے کہ سال 2024 کے دوران طلبہ کی زبردست تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا تھا، جس کے بعد نومبر میں وہاں کی خصوصی عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں انہیں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ اس وقت عوامی لیگ پر مکمل پابندی عائد ہے اور اس کے بیشتر مرکزی رہنما یا تو جیلوں میں ہیں یا روپوش ہیں۔ صدر محمد شہاب الدین نے اپنے استعفے سے قبل وزیرِ اعظم طارق رحمان کو اپنے فیصلے سے آراستہ کر دیا تھا، جس کے بعد اب بنگلہ دیشی سیاست ایک بالکل نئے موڑ میں داخل ہو گئی ہے۔

تبصرہ و تجزیہ

صدر محمد شہاب الدین کا استعفیٰ محض ایک طبی ضرورت نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے بدلے ہوئے سیاسی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔ 2024 کے عوامی انقلاب کے بعد شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے تمام اثرات کو ختم کرنے کا جو عمل شروع ہوا تھا، یہ استعفیٰ اس کا آخری اور حتمی مرحلہ ہے۔ اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا عہدہ زیادہ تر آئینی اور علامتی ہوتا ہے، لیکن شیخ حسینہ کی دسمبر میں مجوزہ واپسی اور سرنڈر کے منصوبے سے قبل ان کے قریبی اتحادی کا مستعفی ہونا عوامی لیگ کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ اس قدم سے طارق رحمان حکومت کا کنٹرول مزید مضبوط ہو جائے گا، لیکن نئے صدر کے انتخاب اور ملک کی آئینی بحالی کے لیے آنے والے چند ماہ انتہائی حساس ثابت ہوں گے۔


⬇️ Click to Read this Political Story in English

Bangladesh President Shahabuddin Resigns Over Severe Health Issues


DHAKA: Bangladesh President Mohammed Shahabuddin, 76, has officially stepped down from his post citing a serious neurological condition known as Autonomic Neuropathy, which causes temporary loss of consciousness. A key former ally of ousted Prime Minister Sheikh Hasina, Shahabuddin had been serving in the ceremonial role since April 2023.

A Major Setback for Hasina's Awami League

His resignation leaves Sheikh Hasina completely stripped of high-ranking allies in Dhaka just months before her planned return from self-imposed exile in India. The speaker of the Jatiya Sangsad will assume presidential duties until a new head of state is elected. The move comes amid intense pressure on Prime Minister Tarique Rahman's government to remove all remnants of Hasina's regime following the deadly 2024 student-led uprising.

Comments