امریکہ ایران جنگ بندی معاہدہ تباہ! آبنائے ہرمز میں 80 اہداف پر بمباری، بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

Anti-aircraft weapons firing and explosions representing the military escalation between the US and Iran
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا عارضی جنگ بندی کا معاہدہ 'اسلام آباد مفاہمت نامہ' (Islamabad MOU) مکمل طور پر تار تار ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے آبنائے ہرمز میں تیل کے تین ٹینکرز پر ایرانی حملوں کے جواب میں جنوبی ایران کے 80 سے زائد فوجی اہداف پر شدید ترین بمباری کی ہے۔ امریکی وزارتِ خزانہ نے ایران کے لیے تیل فروخت کرنے کا عارضی لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے۔ اس امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی جدید ترین MQ-9 ریپر ڈرون کو بھی مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی فوج کا الٹیمیٹم اور انقرہ میں ناٹو سربراہی اجلاس

ایرانی فوج نے سرکاری میڈیا پر جاری سخت بیان میں وارننگ دی ہے کہ اگر امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند نہ کیں تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ایرانی ڈرونز کا "قانونی ہدف" بن جائیں گے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ زبردستی اور دھونس کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایران امریکی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ دوسری طرف، انقرہ میں جاری ناٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم کی حمایت کریں۔ ناٹو چیف مارک رٹے نے امریکی حملوں کو "انتہائی ضروری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایران کو سخت جواب دینا لازمی تھا۔ اس اجلاس میں ٹرمپ نے ترکیہ پر سے پابندیاں ہٹانے اور انہیں دوبارہ F-35 پروگرام میں شامل کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے، جبکہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کا تنازع بھی دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائلوں کا نشانہ بننے والے بحری جہازوں میں قطر کا ایل این جی ٹینکر 'الرکیات' بھی شامل ہے، جس پر قطر نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایران کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور قطر اس نقصان کا ایران کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اس وقت پورے جنوبی ایران بشمول بندر عباس اور قشم جزیرے میں ہولناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور خطے میں پائے جانے والے شدید تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تبصرہ و تجزیہ: مشرقِ وسطیٰ میں مکمل جنگ کا خطرہ اور سفارتی ناکامی

'اسلام آباد معاہدہ' بنیادی طور پر ایک کمزور بیس پر کھڑا تھا کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان مائنڈ سیٹ کا شدید تضاد موجود تھا۔ امریکہ کی جانب سے تیل کی پابندیوں کی بحالی اور ایران کی طرف سے عالمی تجارتی شاہراہ (آبنائے ہرمز) کو بلاک کرنے کی دھمکیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ خطہ اب ایک ایسی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے جسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ بحرین اور کویت جیسے خودمختار ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر ایرانی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ اب صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلیجی ممالک بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ اگر اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری نے فوری طور پر مداخلت نہ کی تو آبنائے ہرمز کی بندش سے پوری دنیا کا معاشی نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔


⬇️ Click to Read this Military Conflict Story in English

Ceasefire Collapses: US Strikes 80 Targets in Iran; IRGC Retaliates Against Bases in Bahrain and Kuwait


TEHRAN/ANKARA: The fragile Islamabad Memorandum of Understanding between the US and Iran has collapsed after the US military launched extensive airstrikes hitting over 80 targets in southern Iran. The strikes were a retaliation for Iranian attacks on commercial vessels in the Strait of Hormuz, including a Qatari LNG carrier. In response, Iran's Revolutionary Guards (IRGC) launched missile and drone attacks against US military bases in Bahrain and Kuwait, while claiming to have shot down an American MQ-9 Reaper drone.

Trump Rallies NATO Allies in Ankara Amid Escalation

Iranian military officials warned that all US regional assets are now "legitimate targets" if hostilities continue. Meanwhile, US President Donald Trump, attending the NATO summit in Ankara, criticized European allies for inadequate support while gaining backing from NATO Chief Mark Rutte, who deemed the US retaliation "absolutely necessary." The escalating heavy crossfire has triggered emergency alarms across international energy choke points and Gulf security networks.

Comments