امریکہ ایران جنگ بندی معاہدہ تباہ! آبنائے ہرمز میں 80 اہداف پر بمباری، بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے
ایرانی فوج کا الٹیمیٹم اور انقرہ میں ناٹو سربراہی اجلاس
ایرانی فوج نے سرکاری میڈیا پر جاری سخت بیان میں وارننگ دی ہے کہ اگر امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند نہ کیں تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ایرانی ڈرونز کا "قانونی ہدف" بن جائیں گے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ زبردستی اور دھونس کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایران امریکی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ دوسری طرف، انقرہ میں جاری ناٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم کی حمایت کریں۔ ناٹو چیف مارک رٹے نے امریکی حملوں کو "انتہائی ضروری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایران کو سخت جواب دینا لازمی تھا۔ اس اجلاس میں ٹرمپ نے ترکیہ پر سے پابندیاں ہٹانے اور انہیں دوبارہ F-35 پروگرام میں شامل کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے، جبکہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کا تنازع بھی دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائلوں کا نشانہ بننے والے بحری جہازوں میں قطر کا ایل این جی ٹینکر 'الرکیات' بھی شامل ہے، جس پر قطر نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایران کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور قطر اس نقصان کا ایران کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اس وقت پورے جنوبی ایران بشمول بندر عباس اور قشم جزیرے میں ہولناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور خطے میں پائے جانے والے شدید تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: مشرقِ وسطیٰ میں مکمل جنگ کا خطرہ اور سفارتی ناکامی
'اسلام آباد معاہدہ' بنیادی طور پر ایک کمزور بیس پر کھڑا تھا کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان مائنڈ سیٹ کا شدید تضاد موجود تھا۔ امریکہ کی جانب سے تیل کی پابندیوں کی بحالی اور ایران کی طرف سے عالمی تجارتی شاہراہ (آبنائے ہرمز) کو بلاک کرنے کی دھمکیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ خطہ اب ایک ایسی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے جسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ بحرین اور کویت جیسے خودمختار ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر ایرانی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ اب صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلیجی ممالک بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ اگر اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری نے فوری طور پر مداخلت نہ کی تو آبنائے ہرمز کی بندش سے پوری دنیا کا معاشی نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment