کولنگ ٹیکنالوجی کی مانگ میں 3000 فیصد اضافہ اور لیتھیم بیٹریوں کا خطرہ
برطانیہ میں جون کے آخر میں شروع ہونے والی گرمی کی وجہ سے گوگل پر ان پورٹیبل پنکھوں کی سرچز پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ معروف آن لائن الیکٹریکل برانڈز نے تصدیق کی ہے کہ ان کے پنکھوں کی فروخت میں ہفتہ وار بنیادوں پر 2,500 سے 3,000 فیصد تک کا ناقابلِ یقین اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چینی کمپنیوں نے اس ٹرینڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لندن کے ٹرانسپورٹ حبس پر ہزاروں پنکھے مفت بھی تقسیم کیے۔ مارکیٹ میں یہ پنکھے محض 2 پاؤنڈ (چند سو روپے) کی معمولی قیمت پر دستیاب ہیں، جس کی وجہ سے لوگ انہیں خریدنے کے بعد خراب ہونے پر مرمت کروانے کے بجائے فوراً کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔
ویسٹ مینجمنٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سستے الیکٹرانک پنکھوں کو عام کچرے کے ڈبوں میں پھینکنا سیکیورٹی ورکرز اور ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ان پورٹیبل پنکھوں میں ہائی پاورڈ "لیتھیم آئن" (Lithium-ion) بیٹریاں لگی ہوتی ہیں، جو کچرا اٹھانے والی گاڑیوں میں دبنے یا کچرے کے ڈھیر پر لوڈ ہونے کے دوران کچلے جانے سے آسانی سے آگ پکڑ لیتی ہیں۔ اس سے نہ صرف ویسٹ فیسلیٹیز میں آگ لگنے کے بڑے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، بلکہ نایاب خام مال کا بھی ضیاع ہو رہا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ: "فاسٹ ٹیک" کا کینسر اور ماحولیاتی تباہی
"فاسٹ فیشن" کی طرح اب دنیا "فاسٹ ٹیک" (Fast-tech) کے ایک نئے اور خطرناک عذاب میں مبتلا ہو چکی ہے۔ سستی، کم پائیدار اور عارضی الیکٹرانک اشیاء بنانا اب کمپنیوں کا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ صارفین چند دن کی گرمی سے بچنے کے لیے سستے پلاسٹک کے پنکھے خریدتے ہیں اور پھر انہیں درازوں کی نذر کر دیتے ہیں یا کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ جب تک حکومتیں ایسی سستی الیکٹرانک مصنوعات کی پائیداری (Longevity) کے لیے سخت قوانین نہیں بناتیں اور ری سائیکلنگ کے نظام کو لازمی قرار نہیں دیا جاتا، تب تک گلوبل وارمنگ اور الیکٹرانک فضلے (E-waste) کا یہ طوفان دنیا کو نگلتا رہے گا۔

Comments
Post a Comment