تھری ٹریلین کا ہدف اور اوپن سورس ٹیکنالوجی کی طاقت
کیمی کے تھری (Kimi K3) دنیا کا پہلا اوپن ویٹ ماڈل ہے جو 3 ٹریلین پیرامیٹرز کے ہدف کے انتہائی قریب پہنچا ہے، جسے خاص طور پر پیچیدہ منطق (Advanced Reasoning)، کوڈنگ اور طویل سائنسی کاموں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں 1 ملین ٹوکن کی ونڈو دی گئی ہے، یعنی یہ ایک ہی وقت میں ماضی کے تمام ماڈلز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ڈیٹا پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ ایجنسیز بشمول Arena.ai اور Vals AI کی درجہ بندی میں اس چینی ماڈل نے اوپن اے آئی کے 'جی پی ٹی 5.5' اور 'اوپیس 4.8' کو کئی مقابلوں میں واضح طور پر شکست دے دی ہے۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں چین کی دیگر حریف کمپنیوں کے شیئرز میں 21 فیصد تک کی ریکارڈ گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
علی بابا اور ٹینسنٹ جیسے چینی کاروباری گروپوں کی سرمایہ کاری سے چلنے والا یہ اسٹارٹ اپ اس وقت مارکیٹ میں ہانگ کانگ لسٹنگ سے قبل 30 ارب ڈالر کی مالیت کے ساتھ 2 ارب ڈالر کا نیا فنڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اوپن ویٹ ماڈل ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے ڈویلپرز اسے مفت ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں، جو کہ امریکی کمپنیوں کے کلوزڈ سورس (پیسے لے کر چلنے والے) ماڈلز کے لیے ایک بہت بڑا کاروباری خطرہ بن چکا ہے۔
تبصرہ و تجزیہ
چین کی طرف سے 2.8 ٹریلین پیرامیٹر کا اوپن ماڈل متعارف کروانا مغربی تجزیہ کاروں کے ان مفروضوں کا مکمل خاتمہ ہے جو سمجھتے تھے کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی امریکہ سے مہینوں پیچھے ہے۔ کم لاگت اور تیز رفتار ماڈل ریلیز سائیکل کی بدولت چینی کمپنیوں نے عالمی مارکیٹ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ امریکی کمپنیوں کی جانب سے سیکیورٹی اور حکومتی پابندیوں کے باعث اپنے سسٹمز کو محدود کرنے کا براہِ راست فائدہ چینی سورسز کو ملا ہے۔ اوپن ویٹ ماڈل کا دنیا بھر کے ڈویلپرز کے لیے دستیاب ہونا نہ صرف ٹیکنالوجی کی اجارہ داری کو ختم کرے گا، بلکہ خودکار اور خود سے بہتری لانے والے (Autonomous) سسٹمز کی دوڑ میں چین کو ایک ناقابلِ شکست برتری فراہم کر سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment